دیگر ممالک

ایران نے اپنے جہاز پر حملے کے بعد یوکرین کے قائم مقام سفارت کار کو طلب کیا

بحیرہ کیسپین میں ایرانی تجارتی بحری جہاز پر یوکرین کے حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے یوکرین کے قائم مقام سفارت کار کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ئل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

ئل تصویر آئی اے این ایس

 

بحیرہ کیسپین میں ایرانی تجارتی بحری جہاز پر حملے کے بعد ایران اور یوکرین کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے یوکرین کو سخت وارننگ دی ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح طور پر کہا کہ اس حملے کا ضرور جواب دیا جائے گا اور اسے جواب دیئے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔

ایران نے ہفتے کے روز عوامی طور پر الزام لگایا کہ یوکرین نے بحیرہ کیسپین میں اس کے ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ وزارت خارجہ کے مطابق ہفتے کی صبح حملے کے بعد جہاز میں دھماکہ ہوا جس میں ایک ملاح ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کازا کالس اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے الگ الگ بات کی۔ عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کیا جس میں ایک ملاح ہلاک ہوا۔ اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ یہ قدم اسرائیل کے کہنے پر اٹھایا گیا ہے تاکہ یورپ کو جنگ کی طرف کھینچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ کیف کی طرف سے اٹھائے گئے اس قدم کو لا جواب نہیں چھوڑا جائے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ حملے کے بعد جہاز پھٹ گیا جس کے نتیجے میں عملے کے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ وزارت نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا روس اور یوکرین جنگ میں کوئی دخل نہیں ہے۔ ایران نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کر دیا کہ اسے اس تنازع میں کسی بھی فریق کا اتحادی قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے بحیرہ کیسپین میں طویل فاصلے تک فوجی کارروائی کی ہے۔ یوکریئنی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ٹیلی گرام پر دعویٰ کیا کہ ڈرون حملے ایسے کارگو جہازوں پر کیے گئے جو بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں تھے اور ایران اور روس کے درمیان فوجی سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

اس واقعے کے بعد، ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز یوکرین کے قائم مقام سفارت کار (چارج ڈی افیئرز) کو طلب کیا ہے۔ ایران نے اس حملے کو دشمنانہ اور مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے شدید سفارتی احتجاج درج کیا اور سرکاری چینلز کے ذریعے یوکرین سے اپنے احتجاج کا اظہار کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔