
فائل تصویر آئی اے این ایس
جرمنی میں ایک بیس سالہ ہندوستانی شہری کو ایریزونا میں اپنی انیس سالہ گرل فرینڈ کا گلا دبانے اور امریکہ سے فرار ہونے کی کوشش کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبرمیں لکھا ہے کہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ورون بچیگاری پر کالج کی طالبہ جولیسا روبی سالزار کی ہلاکت میں قتل کا شبہ ہے۔ سالزار جمعرات کو ٹکسن میں ایریزونا یونیورسٹی کے قریب اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئیں۔
پولیس کا کہنا تھا کہ جولیسا کے اہل خانہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کرنے کے بعد، انہوں نے اپارٹمنٹ میں فلاحی جانچ کی، جہاں جولیسا بے ہوش اور زخموں سے دوچار پائی گئی۔ بعد ازاں تفتیش کاروں نے سالزار کے بوائے فرینڈ بچیگاری کو مرکزی ملزم کے طور پر شناخت کیا۔
پولیس اور ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ قتل کے بعد ورون ٹکسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا اور ہیوسٹن کے لیے فلائٹ لی۔ ہیوسٹن سے، اس نے جرمنی کے شہر برلن کے لیے ایک اور پرواز کی۔ ایریزونا پولیس اور وفاقی ایجنٹوں نے اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی، وارنٹ گرفتاری حاصل کیے، اور برلن پہنچنے پر اسے حراست میں لے لیا۔
توقع ہے کہ اسے ایریزونا کے حوالے کیا جائے گا، جہاں اس پر فرسٹ ڈگری قتل کا الزام عائد کیا جائے گا اور اسے پیما کاؤنٹی بالغ حراستی مرکز میں رکھا جائے گا۔ حکام کا خیال ہے کہ وہ ہندوستان واپس جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق جولیسا جنسی زیادتی کی وجہ سے ورون کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ پانچ اگست کو جولیسا کے کمرے سے زوردار چیخیں سنائی دیں۔
ورون بچیگاری یونیورسٹی آف ایریزونا میں بزنس اینالیٹکس کی تعلیم حاصل کر رہا تھا لیکن حملے کے بعد اسے نکال دیا گیا۔ اسے گھریلو تشدد کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس کیس نے سالزار کی موت سے چند ہفتوں پہلے کے حالات کے بارے میں مزید سوالات اٹھائے ہیں۔ بچیگاری نے حال ہی میں اپنی ملازمت کھو دی تھی، جس سے کرایہ ادا کرنے کی اس کی صلاحیت متاثر ہوئی تھی اور اس کی امیگریشن کی حیثیت خطرے میں پڑ گئی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔