
حوثی باغی (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے 2 انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں 3 افراد ہلاک، جبکہ 36 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ’سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی‘ کے مطابق ابہا ایئرپورٹ پر ایک مصری اور ایک الجزائر شہری کی موت ہوئی ہے۔ وہیں ریاض ایئرپورٹ پر ایک سوڈانی شہری کی بھی موت ہوئی ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سری نے ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل داغنے کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ میزائل نے ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا اور ایئر ٹریفک متاثر ہوا۔ حالانکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ میزائل کو راستے میں ہی روک دیا گیا تھا۔
اتحاد نے حوثیوں کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے جوابی کارروائی کی بات کہی۔ اس کے بعد اتحاد نے 82 فوجی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان میں پہاڑوں میں موجود بیلسٹک میزائل کے ٹھکانے، کمانڈ اور کنٹرول سینٹر، مواصلاتی نظام اور حوثی جنگجوؤں کے جمع ہونے والے مقامات شامل ہیں۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا ایئرپورٹ اور خمیس مشیط میں واقع کنگ خالد ایئربیس پر بھی ڈرون اور میزائل حملے کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملے اپنے اہداف تک پہنچے۔ یمن میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ حوثیوں نے عدن ایئرپورٹ کے قریب فوجی سامان لے جانے والے قافلے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق ایئرپورٹ پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا گیا۔ ایک میزائل رن وے کے قریب گرا، جس کی وجہ سے قاہرہ سے آنے والی ایک پرواز کو جدہ کی طرف موڑنا پڑا۔
سعودی عرب 2015 سے یمن کی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ 4 برسوں کی جنگ بندی کے بعد جولائی میں دوبارہ جنگ شروع ہوئی۔ گزشتہ ماہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے پورے مغربی ساحل پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس دوران 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز مغربی یمن میں ہونے والی نئی جھڑپوں میں فریقین کے کم از کم 62 جنگجو مارے گئے، جن میں 37 حوثی بتائے گئے ہیں۔ تعز میں حوثیوں کے میزائل سے 5 شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے۔ یمن کی حکومت نے حوثیوں کے قبضے والے پورے علاقے کو واپس لینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان علاقوں میں ملک کی بڑی آبادی رہتی ہے۔ جنگ کے باعث پیدا ہونے والے انسانی بحران میں یمن کی بیشتر آبادی آج بھی امداد پر منحصر ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔