دیگر ممالک

برطانیہ میں شدید گرمی کا قہر: درجہ حرارت 38 ڈگری تک پہنچنے کا امکان

’رائٹرز‘ کے مطابق تقریباً 4.5 کروڑ لوگ ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جنہیں خشک سالی سے متاثرہ مانا گیا ہے، جبکہ تقریباً 2.7 کروڑ لوگوں پر پانی سے متعلق پابندیوں کا اثر ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

برطانیہ اس وقت شدید گرمی، خشک سالی اور جنگلوں میں بھڑکتی آگ بحران سے نبرد آزما ہے۔ محکمہ موسمیات نے کئی علاقوں کے لیے شدید ترین گرمی کا الرٹ جاری کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا امکان ہے۔ صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم اینڈریو برنہم نے بدھ کو حکومت کی ہنگامی کمیٹی ’کوبرا‘ کا اجلاس طلب کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی اور مشرقی برطانیہ اور مڈلینڈز کے کچھ حصوں میں گرمی سب سے زیادہ پریشان کر سکتی ہے۔ برطانیہ کے کئی حصوں میں پہلے سے ہی ’امبر ہیٹ-ہیلتھ الرٹ‘ نافذ ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے لوگوں، خاص طور پر بزرگوں اور دیگر حساس افراد سے گرمی کے دوران اضافی احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔

2026 میں برطانیہ میں آنے والی پانچویں ہیٹ ویو ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال کی گرمی اب تک ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔ رواں سال اب تک 30 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ درجہ حرارت والے 35 دن درج کیے جا چکے ہیں۔ گرمی کا اثر صرف لوگوں کی صحت تک ہی محدود نہیں ہے۔ طویل عرصے سے جاری خشک سالی نے پانی کے بحران کو سنگین بنا دیا ہے اور جنگلوں میں آگ کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ برطانیہ اور ویلز میں رواں سال اب تک جنگل میں آگ لگنے کے 966 واقعات درج کیے جا چکے ہیں، جن میں سے صرف اگست کے ابتدائی 10 دنوں میں ہی 185 واقعات پیش آئے۔

’دی گارڈین‘ کے مطابق حکومت کے کوبرا اجلاس میں گرمی، جنگل کی آگ، پانی کی دستیابی اور ہنگامی خدمات پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے اقدامات پر بحث ہوگی۔ حکومت نے فائر فائٹنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے 9.7 کروڑ پاؤنڈ کی اضافی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ خشک سالی کی وجہ سے لاکھوں لوگ پانی کی پابندیوں کے دائرے میں ہیں۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق تقریباً 4.5 کروڑ لوگ ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جنہیں خشک سالی سے متاثرہ مانا گیا ہے، جبکہ تقریباً 2.7 کروڑ لوگوں پر پانی سے متعلق پابندیوں کا اثر ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مسلسل گرم اور خشک موسم نے کسانوں کی مشکلات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ پانی کے ذرائع کی سطح گر رہی ہے اور کئی علاقوں میں زراعت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں حکومت کے سامنے فوری طور پر شدید گرمی اور جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ پانی کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی طویل مدتی حکمت عملی تیار کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔