
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے درمیان یورپی یونین (ای یو ) نے ایران کے حوالے سے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ یورپی یونین نے ایران کے پاسداران انقلاب کو القاعدہ، داعش اور حماس کے ساتھ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس نے کہا کہ آئی آر جی سی نے احتجاج کے دوران 6,373 افراد کو ہلاک کیا ہے۔ انہوں نے جمعرات کو کہا، "اگر آپ دہشت گرد کی طرح کام کرتے ہیں، تو آپ کے ساتھ دہشت گرد جیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔"
Published: undefined
کاجا کالس نے کہا کہ ایران کے خلاف اس اقدام کے لیے یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کی حمایت درکار ہوگی جس کے بعد آئی آر جی سی کو دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ فرانس نے پہلے اس اقدام کی مخالفت کی تھی، اس خدشے سے کہ اس سے ایران میں پھنسے فرانسیسی شہریوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور ایران کے ساتھ بات چیت تک رسائی روک دی جائے گی۔ تاہم فرانس نے اب اپنا موقف بدل لیا ہے۔
Published: undefined
فرانس کے وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے کہا کہ "ایران میں پرامن احتجاج کے ناقابل برداشت جبر کا جواب دینا ضروری ہے۔ جرائم کی کوئی معافی نہیں ہو سکتی۔" فرانسیسی صدارتی دفتر نے بھی اس کی حمایت کی تصدیق کی ہے۔ اٹلی،ا سپین اور جرمنی جیسے ممالک پہلے ہی اس اقدام کی حمایت کر چکے ہیں۔
Published: undefined
آئی آر جی سی ایران کی سب سے طاقتور فوجی شاخ ہے۔ اسے 1979 میں آیت اللہ خمینی نے اسلامی انقلاب کے دفاع کے لیے بنایا تھا۔ یہ باقاعدہ فوج سے الگ کام کرتا ہے اور براہ راست سپریم لیڈر کو رپورٹ کرتا ہے۔ آئی آر جی سی ایران کی سیاست، معیشت اور خارجہ پالیسی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا پہلے ہی اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined