دیگر ممالک

انتہائی کم قیمت میں فروخت ہوگا خام تیل! دنیا کے 21 ممالک نے اٹھایا اہم قدم

عالمی سطح پر خام تیل کی کمی کے باوجود ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ آخری بار 25 مئی کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی ہوئی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>

علامتی تصویر

 
ali

پیر کے روز بھی تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا، جس کی 2 اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ تقریباً 21 ممالک کے گروپ ’اوپیک پلس‘ نے مسلسل پانچویں مہینے پیداوار بڑھانے کا فیصلہ لیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے برآمدات میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے، جس سے دنیا کے سب سے اہم انرجی کوریڈورس میں سے ایک میں طویل عرصے تک سپلائی میں رکاوٹ کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔ بنچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 72 ارب ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 68 ڈالر فی بیرل کے آس پاس کاروبار کر رہا تھا۔ تاجروں کا ماننا ہے کہ آنے والے مہینوں میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی طلب سے زیادہ ہو جائے گی، جس کی وجہ سے تیل خام تیل کی قیمتوں میں مزید گراوٹ دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب عالمی سطح پر خام تیل کی کمی کے باوجود ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ آخری بار 25 مئی کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی ہوئی تھی۔ حال ہی میں مرکزی وزیر برائے پٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کہا تھا کہ جب تک ملک کی آئل ریفائنریز میں سستا تیل نہیں پہنچ جاتا تب تک تیل کی قیمت میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیاں اب بھی تقریباً 2 لاکھ 18 ہزار کروڑ روپے کی مجموعی خسارے کی تلافی کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کمپنیوں کے پاس اب بھی ایسا ایندھن موجود ہے جو اس وقت خریدا گیا تھا جب عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں۔ اسی وجہ سے اس مرحلے پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔

Published: undefined

اتوار کو ’اوپیک پلس‘ اگست سے پیداواری ہدف 188000 بیرل یومیہ (بی پی ڈی) بڑھانے پر متفق ہوا۔ یہ قدم جون اور جولائی کے لیے اعلان کردہ اسی طرح کے کوٹے میں اضافے کے بعد اٹھایا گیا ہے، کیونکہ پیداواری ممالک کا گروپ تیل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے 2023 میں نافذ کی گئی رضاکارانہ پیداواری کٹوتی کو آہستہ آہستہ واپس لے رہا ہے۔ پیداواری بڑھانے کی قیادت کرنے والے 7 ممالک ’سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قزاقستان اور عمان‘ نے اب اپریل سے جولائی کے درمیان تقریباً 800000 ’بی پی ڈی‘ پیداوار بحال کر دی ہے۔ اگر اگست میں گروپ کی اگلی میٹنگ میں اسی طرح کی مزید اضافے کو منظوری ملتی ہے تو 2023 میں طے کی گئی زیادہ تر کٹوری واپس لے لی جائے گی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ جب کشیدگی اپنے عروج پر تھی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھی کیونکہ ٹریڈرس کو ڈر تھا کہ آبنائے ہرمز طویل عرصے سے کے لیے بند ہو سکتا ہے۔ اب وہ خطرات کم ہو گئے ہیں۔ قیمتیں اب تقریباً کشیدگی بڑھنے سے قبل کی سطح پر واپس آ گئی ہیں، جو اس امید کو ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود عالمی سپلائی مستحکم رہے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی فوری توجہ اب جیو پولیٹکس سے ہٹ کر سپلائی اور طلب کے درمیان توازن پر آ گئی ہے۔

Published: undefined

اگرچہ اوپیک پلس مسلسل پیداوار بڑھا رہا ہے، لیکن اسے اندرونی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے رواں سال کی شروعات میں پیداواری معاہدے سے خود کو الگ کر لیا تھا، تاکہ وہ اپنی پیداواری صلاحیت کے مطابق پیداوار کی سطح برقرار رکھ سکے۔ جبکہ عراق نے اشارہ دیا ہے کہ وہ زیادہ پیداواری کوٹہ چاہتا ہے، جس سے مستقبل کی سپلائی پالیسی کو لے کر اراکین کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اس کے باجود اوپیک پلس نے اب تک مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ پیداوار بحال کرنے کی اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو صارفین کے لیے خام تیل کی کم قیمتوں کا مطلب بالآخر ایندھن کی کم لاگت کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

Published: undefined

حالانکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے قیمتوں میں مسلسل کمزوری سرکاری ریونیو پر دباؤ ڈال سکتی ہے، خاص کر جب طلب امید کے مطابق نہ بڑھے۔ اس لیے آنے والے کچھ ہفتے کافی اہم ہوں گے۔ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات معمول کے مطابق رہتی ہے اور اوپیک پلس طلب کم ہونے کے باوجود پیداوار بڑھانا جاری رکھتا ہے تو گرمیوں کے بقیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتیں دباؤ میں رہ سکتی ہیں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined