بین ریاستی شادیوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو سماجی امتیاز کا سامنا، ہریانہ کے 52 گاؤں کے سروے میں ہوا انکشاف

ماہرین نے ہریانہ کے نارنول علاقہ کے 52 گاؤں میں 497 خاندانوں کا سروے کیا۔ اس میں 18 سے 25 سال کے 76 افراد شامل تھے۔ ماہرین نے نوجوانوں، ان کے والدین، سرپنچ اور سرکاری افسران سے بات چیت کی۔

<div class="paragraphs"><p>شادی، علامتی تصویر/&nbsp;آئی اے این ایس</p></div>
i

پولینڈ کی ’یونیورسٹی آف وروکلا‘ کے ایک تحقیق میں ہریانہ کے دیہی علاقوں میں بین الریاستی شادیوں والے خاندانوں کے بچوں کو درپیش سماجی اور ثقافتی چیلنجوں کی تصویر سامنے آئی ہے۔ سروے کے مطابق کئی نوجوانوں کو شناخت، سماجی قبولیت اور مستقبل، خصوصاً شادی کے معاملے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ معاشی پابندیوں کے باوجود والدین تعلیم کو بچوں کے بہتر مستقبل کا سب سے اہم ذریعہ مان رہے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ ہریانہ کے دیہی علاقوں میں دوسری ریاستوں سے شادی کر کے لائی گئیں خواتین کے بچوں کو سماجی امتیاز اور شناخت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ انکشاف پولینڈ کی یونیورسٹی آف وروکلا کے ماہرین کے تحقیق میں ہوا ہے۔ ایسے خاندانوں کے نوجوان اپنے مستقبل، سماجی قبولیت اور شادی کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ ان کے سامنے صرف معاشی ہی نہیں، بلکہ سماجی اور ثقافتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ماہرین نے ہریانہ کے نارنول علاقے کے 52 گاؤں میں 497 خاندانوں کا سروے کیا۔ اس میں 18 سے 25 سال کے 76 افراد شامل تھے۔ ماہرین نے نوجوانوں، ان کے والدین، سرپنچ اور سرکاری افسران سے بات چیت کی۔ تحقیق کے مطابق ان حالات میں بھی ایسے خاندانوں کی تمام امیدیں تعلیم پر منحصر ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر خاصی توجہ دے رہے ہیں۔ والدین کے مطابق  اچھی تعلیم اور مقامی تہذیب و ثقافت کو اپنے سے بچوں کی سماج کی قبولیت بڑھے گی اور مستقبل میں ان کی شادی کی امیدیں بھی بڑھیں گی۔


سروے میں شامل 497 خاندانوں کے 738 بچوں میں بیشتر فی الحال نوجوان ہیں۔ ان خاندانوں میں بہت کم والدین کے پاس مستقل روزگار یا ملازمت ہے۔ تعلیم صرف مڈل اسکول تک ہے، اس لیے تقریباً 96 فیصد مائیں سیلف ہیلپ گروپس میں شامل نہیں ہو پا رہی ہیں، جس کی وجہ سے یہ فیملی سماجی اور اقتصادی طور سے کمزور ہے۔ ریاست کے گاؤں اس طرح کی شادیوں کو محض مجبوری کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔ شادیوں اور سماجی رشتوں کے معاملے میں کاسٹ سسٹم کی روایت کو اہمیت دیتے ہیں۔ تحقیق میں شامل نوجوانوں نے بتایا کہ وہ اپنی شناخت بنانے، معاشرے میں قبولیت حاصل کرنے اور مستقبل کو لے کر مستقل مشقت کر رہے ہیں۔ کئی نوجوانوں نے سماجی اخراج اور تفریق کا بھی تجربہ بیان کیا۔ تحقیق میں مشورہ دیا گیا ہے کہ ہریانہ کے گاؤں میں کثیر الثقافتی خاندانی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ ایسے کنبوں اور ان کے بچوں کو تعلیم، نفسیاتی مدد، روزگار سے وابستہ رہنمائی اور سماجی مدد مل سکے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہو سکیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔