دیگر ممالک

کولمبیا زلزلہ: چیخ و پکار، خوف و دہشت اور ملبہ ہی ملبہ، لمحہ بھر میں اجڑ گئے سینکڑوں آشیانے، اب تک 132 اموات

زلزلہ میں 1600 عمارتیں منہدم یا بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ کئی کنبے اپنے گھروں کے ملبہ میں اہل خانہ کی تلاش کر رہے ہیں۔ لاپتہ لوگوں کی جانکاری شیئر کرنے کے لیے شہریوں نے آن لائن پلیٹ فارم بھی بنائے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>زلزلہ کے بعد منہدم ایک عمارت، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/ZeroBarkThirty2">@ZeroBarkThirty2</a></p></div>

زلزلہ کے بعد منہدم ایک عمارت، تصویر ’ایکس‘ @ZeroBarkThirty2

 

کولمبیا میں 10 اگست کو آئے زلزلہ نے ہر طرف تباہی کا نشان چھوڑ دیا ہے۔ 7.4 شدت کے خوفناک زلزلے سے سینکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور اب تک 132 لوگوں کی موت سے متعلق تصدیق ہو چکی ہے۔ تقریباً 570 افراد زخمی بھی بتائے جا رہے ہیں، جن میں کئی کی حالت انتہائی سنگین ہے۔ زلزلہ کے بعد مچی چیخ و پکار تو اب رک چکی ہے، لیکن خوف و دہشت اور ہر طرف پھیلا ہوا ملبہ اب بھی دکھائی دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیوز سامنے آئی ہیں، ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ہلاکتوں کی تعداد ابھی بہت بڑھنے والی ہے، کیونکہ درجنوں افراد کے ملبہ میں دبے ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یورپی-میڈیٹیرینین سسمولوجیکل سینٹر کے مطابق زلزلے کی ابتدائی شدت 7.4 تھی اور اس کا مرکز 115 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ حالانکہ کولمبیا کی جیولوجیکل سروس نے ابتدائی شدت 6.7 بتائی ہے۔ زلزلہ کے شدید جھٹکوں کے باعث لوگوں کو اپنے گھروں اور عمارتوں سے باہر نکلنا پڑا، لیکن کئی لوگوں کو عمارت سے نکلنے کا موقع ہی نہیں مل پایا۔ زلزلے کی شدت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے جھٹکے راجدھانی بوگوٹا کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک وینزویلا اور ایکواڈور میں بھی محسوس کیے گئے۔

زلزلے کا مرکز بوگوٹا سے تقریباً 400 کلومیٹر مغرب میں سان ہوزے ڈیل پالمر کے قریب بتایا جا رہا ہے۔ کولمبیا کی نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے مطابق زلزلے کی شدت 7.4 تھی اور یہ 79 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا تھا۔ چوکوں کی گورنر نوبیا کیرولینا کورڈوبا-کیوری نے بتایا کہ صوبہ کی راجدھانی کوئبدو میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں اور عمارتوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ حکام ابھی نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی کولمبا کے متاثرہ علاقوں میں راحت و بچاؤ کی مہم مستقل جاری ہے۔ راحت و بچاؤ میں لگی ٹیمیں ملبہ میں پھنسے لوگوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ مغربی کولمبیا کے کیلی، کوئبدو، پیرئیرا اور قرب و جوار میں ہر طرف زلزلہ کے نشانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ زلزلہ میں تقریباً 1600 عمارتیں منہدم یا بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ کئی کنبے اپنے گھروں کے ملبہ میں اہل خانہ کی تلاش کر رہے ہیں۔ لاپتہ لوگوں کی جانکاری شیئر کرنے کے لیے شہریوں نے آن لائن پلیٹ فارم بھی بنائے ہیں۔ زلزلہ سے سب سے زیادہ متاثر پیرئیرا شہر میں تنہا تقریباً 60 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

اس درمیان راحت و بچاؤ کاری ایجنسیاں خاص طور سے بچوں کی مدد پر توجہ دے رہی ہیں۔ ورلڈ ویژن کولمبیا کی مواصلات کوآرڈنیٹر باربرا میلو نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں بچوں کے لیے محفوظ مقامات بنائے جا رہے ہیں۔ ان محفوظ مقامات پر وہ بچے آ سکیں گے، جن کے والدین اس دنیا میں نہیں رہے یا جن سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ یہاں بچوں کے لیے کھیل اور دوسری سرگرمیوں کا بھی انتظام کیا جائے گا تاکہ انھیں مشکل حالات میں محفوظ ماحول مل سکے۔

راحتی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ زلزلہ سے متاثر کچھ علاقوں میں راحت و بچاؤ کا عمل انتہائی چیلنج بھرا ہے۔ کئی مقامات تک گھنے جنگلوں سے گزرتے ہوئے کشتی یا طیارہ کے ذریعہ ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ اس سے راحت و بچاؤ ٹیموں کے لیے متاثرہ لوگوں تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ اس درمیان کولمبیا کے صدر ابیلارڈو ڈی ایسپریلا نے راجدھانی کوئبدو کا دورہ کیا۔ انھوں نے وہاں زلزلہ سے ہوئے نقصانات کا جائزہ لیا اور راحت و بچاؤ مہم کا جائزہ لیا۔

قابل ذکر ہے کہ کولمبیا کا شمار جنوبی امریکہ کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو زلزلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ اس علاقے کی ٹیکٹونک پلیٹیں ہیں۔ یہ ملک کئی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحدوں اور بڑے فالٹ سسٹم کے قریب واقع ہے۔ کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق اب تک یہاں 100 سے زیادہ تباہ کن زلزلے آ چکے ہیں۔ اینڈین علاقہ، ایسٹرن کورڈیلیرا کے مشرقی خطہ اور بحرالکاہل کے ساحلی علاقے خاص طور پر خطرے کی زد میں ہیں۔

تاریخ میں کولمبیا نے کئی شدید زلزلے دیکھے ہیں۔ سب سے تباہ کن زلزلہ 1979 میں جنوب مغربی کولمبیا کے ٹوماکو کے قریب آیا تھا۔ اس کی شدت 8 تھی اور اس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ پیر کو آنے والا 7.4 شدت کا زلزلہ بھی حالیہ دہائیوں میں آنے والے بڑے زلزلوں میں سے ایک ہے۔ فی الحال حکام کی ترجیح زخمیوں کا علاج کرنا اور متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانا ہے۔ محکمہ موسمیات کی ایجنسیاں اور یو ایس جی ایس مسلسل زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔