دیگر ممالک

3 سال بعد غزہ میں ملی 112 فلسطینیوں کی لاشیں، اسرائیلی حملے میں ہوئی تھی موت

غزہ سول ڈیفنس کے مطابق غزہ سٹی کے صبرہ علاقے میں واقع ابو شریعہ اور الحسینہ خاندان کے گھروں کے ملبے سے 112 لوگوں کی لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کی گئیں، منگل کو ان کا اجتماعی نماز جنازہ ادا کیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

غزہ میں اسرائیل-حماس جنگ کی ہولناکی ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔ غزہ سٹی میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کے تقریباً 3 سال بعد ملبے سے 112 فلسطینیوں کی لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کی گئی ہیں۔ ان میں ایک ہی خاندان کی بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ غزہ سول ڈیفنس کے مطابق یہ جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں ہونے والی سب سے بڑی اجتماعی آخری رسومات میں سے ایک ہے۔

غزہ سول ڈیفنس کے مطابق غزہ سٹی کے صبرہ علاقے میں واقع ابو شریعہ اور الحسینہ خاندان کے گھروں کے ملبے سے 112 لوگوں کی لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کی گئیں۔ ان تمام کا منگل کو اجتماعی جنازہ ادا کیا گیا۔ آخری رسومات کے دوران لاشوں کو اسٹریچر پر رکھ کر فلسطینی جھنڈوں سے ڈھانپا گیا اور سینکڑوں لوگ نماز جنازہ اور ان کی تدفین میں شریک ہوئے۔

غزہ سول ڈیفنس کے مطابق 23 نومبر 2023 کو جنگ کے دوسرے مہینے میں اسرائیلی حملے میں دونوں خاندانوں کے رہائشی احاطے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت مسلسل جنگ جاری ہونے کے سبب ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع تک نہیں پہنچ سکی تھیں۔ جولائی کے وسط میں ٹیموں کو پہلی بار وہاں پہنچنے کا موقع ملا، جس کے بعد آئندہ 2 ہفتوں تک ملبے میں لاشوں کی تلاشی مہم چلائی گئی۔ غزہ سول ڈیفنس کے آپریشن ڈائریکٹر محمد علی المغیر نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم نے 17 دنوں تک مسلسل مہم چلا کر 112 لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امدادی کارکنان کو بقدر ضرورت مشینری نہ ہونے کی وجہ سے کنکریٹ اور مڑے ہوئے لوہے کے ڈھیر کو ہٹا کر ہاتھوں اور محدود وسائل سے ہی تلاشی مہم چلانی پڑی۔

غزہ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال نے بتایا کہ برآمد کی گئی لاشوں میں 44 بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورے غزہ میں اب بھی 8000 سے زائد لوگوں کی لاشیں ملبے کے نیچے دبی ہونے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو مہم میں انٹرنیشل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی جانب سے کرائے پر فراہم کیے گئے 2 ایکسکیویٹر (کھدائی مشین) کا استعمال کیا گیا۔ یروشلم میں آئی سی آر سی کے ترجمان پیٹ گریفتھس نے ’اے ایف پی‘ سے تصدیق کی کہ تنظیم نے غزہ میں دستیاب چند کھدائی مشینوں میں سے 2 مشینیں اس مہم کے لیے دستیاب کرائی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق نومبر 2023 کے اس حملے کو لے کر اسرائیلی فوج سے جواب طلب کیا گیا تھا، لیکن اس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ حالانکہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کا کہنا رہا ہے کہ وہ صرف دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی ہے۔ فوج کا الزام ہے کہ حماس شہری آبادی والے علاقوں سے اپنی مہم چلاتا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں کی جان خطرے میں پڑتی ہے۔ غزہ کے حماس کے زیر کنٹرول وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی مہم میں اب تک 73000 سے زائد فلسطینیوں کی موت ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ’اے ایف پی‘ کے ذریعہ اسرائیل کے آفیشیل اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیل کے 1221 لوگوں کی موت ہوئی تھی، جبکہ 251 لوگوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔