10 ماہ میں 14 بار الیکشن کمشنرز کا اختلاف رائے، غیر مجاز اور غیر قانونی اقدامات پر اٹھے سوال
ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے کہا کہ ’’آج انڈین ایکسپریس میں شائع خبر بتاتی ہے کہ کس طرح گیانیش کمار نے ایس آئی آر کرانے کے طریقے پر باقی 2 الیکشن کمشنرز کے اعتراضات کو غیر قانونی طریقے سے نظر انداز کیا۔‘‘

الیکشن کمیشن آف انڈیا میں گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ ایسے مواقع آئے جب 3 رکنی کمیشن کے 2 الیکشن کمشنرز، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے کمیشن کے بعض فیصلوں اور احکامات پر باضابطہ طور پر اعتراض درج کرایا۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنرز نے متعدد مواقع پر کہا کہ بعض فیصلے ان کی اطلاع یا منظوری کے بغیر کیے گئے۔ ان اعتراضات کا تعلق نئے ووٹرز کے اندراج، ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے اور بحال کرنے، انتخابی فہرست تک رسائی اور اس کی حفاظت، نیز مغربی بنگال میں ووٹرز سے متعلق اپیلوں جیسے اہم معاملات سے ہے۔
الیکشن کمیشن کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) مہم جون 2025 میں بہار سے شروع ہوئی تھی۔ بظاہر اس کا مقصد ووٹر لسٹ کی اصلاح اور صفائی تھا، لیکن اس عمل کے دوران 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کی مسودہ ووٹر لسٹ سے 13 کروڑ سے زیادہ نام حذف کیے گئے۔ اس کے بعد انتخابی فہرستوں کی تیاری اور ووٹ دینے کے حق سے متعلق الیکشن کمیشن کا کردار شدید عوامی بحث کا موضوع بن گیا۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق کمیشن کے اندر بھی اسی عرصے میں ان معاملات پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے۔ دونوں الیکشن کمشنرز نے کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کرائے، جن میں سے چار اعتراضات ایک ہی دن کیے گئے تھے۔ ان تمام معاملات کی اطلاع چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی دی گئی تھی۔ ایک تحریری اعتراض میں سندھو نے کہا کہ کمیشن نے 2 کمشنرز کے تحریری مشورے کے برخلاف کارروائی کی اور اسے ’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ قرار دیا۔ حال ہی میں سندھو اور جوشی نے الگ الگ کابینہ سکریٹری کو خط لکھ کر کام کی تقسیم میں کی گئی تبدیلیوں پر اعتراض کیا۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں کے آئی ٹی نظام کی نگرانی کی ایک سطح ختم ہو گئی تھی اور یہ تبدیلی ان کی اطلاع کے بغیر کی گئی تھی۔ دونوں نے اس تبدیلی کو مسترد کر دیا۔
اس کے بعد 9 ستمبر کو چیف الیکشن کمشنر اور دونوں الیکشن کمشنرز کی مکمل میٹنگ ہوئی، جو 4 ماہ میں ان کی پہلی مکمل میٹنگ تھی۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے ان تمام خط و کتابت کا جائزہ لینے اور دہلی، کولکاتا، گوا اور ممبئی میں متعدد افسران سے بات کرنے کے بعد الیکشن کمیشن کے اندر پیدا ہونے والے اختلافات کی تفصیل سامنے رکھی ہے۔
1. نیا ووٹر کون؟ فارم-6 میں تبدیلی کیوں؟
ہر بالغ شہری کو ووٹر بننے کے لیے فارم-6 بھرنا ہوتا ہے۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے جولائی میں رپورٹ کیا تھا کہ اس فارم میں ایس آئی آر سے متعلق ایک نیا سوال شامل کیا گیا۔ درخواست گزار سے پوچھا جانے لگا کہ آیا وہ خود یا اس کے والدین یا دادا دادی گزشتہ ایس آئی آر کی انتخابی فہرست میں موجود تھے یا نہیں۔ اس سوال کا جواب دیے بغیر درخواست آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق وویک جوشی نے مئی میں ہی فائل پر اعتراض درج کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے قواعد میں ترمیم کیے بغیر فارم-6 میں اس طرح تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ سکھبیر سنگھ سندھو نے بھی اس موقف سے اتفاق کیا تھا، لیکن اس کے باوجود تبدیلی نافذ کر دی گئی۔
جولائی میں اس معاملے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سندھو نے 13 اگست کو تحریری طور پر اسے ’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق پیر کی صبح تک یہ سوال فارم میں موجود تھا۔
2. ووٹر لسٹ تک کس کی رسائی؟
الیکشن کمیشن طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ ووٹر فہرست کی تیاری کا عمل غیر مرکزی ہے۔ ہر انتخابی حلقے کی فہرست کی تیاری اور اس کا انتظام متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن افسر (ای آر او) کے پاس ہوتا ہے، جو عموماً سب ڈویژنل مجسٹریٹ ہوتا ہے۔ یہ فہرست پہلے ’ای آر او نیٹ‘ اور اب ’ای سی آئی نیٹ‘ نامی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے برقرار رکھی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں الیکشن کمشنرز نے گزشتہ ایک سال کے دوران بار بار اس بات پر سوال اٹھایا کہ آیا ای آر اوز کی اس نظام تک رسائی محدود کی جا رہی ہے۔
مئی میں وویک جوشی نے اسے انتخابی فہرست کے ڈاٹا بیس کی ’بتدریج مرکزیت‘ قرار دیتے ہوئے آڈٹ کی تجویز دی تھی، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ووٹر ڈاٹا میں تبدیلی کا اختیار صرف متعلقہ قانونی افسران کے پاس ہو۔ اگست میں سندھو نے بھی اس معاملے کو اٹھایا اور کہا کہ ریاستی سطح کے انتخابی افسران شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں ’ای آر او نیٹ‘ پر مکمل اور مناسب رسائی حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی سیما کھنہ کے اختیار پر بھی سوال اٹھایا کہ انہیں قانونی طور پر متعلقہ افسران کی رسائی محدود کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
3. مغربی بنگال: اپیلیں کس نے دائر کیں؟
مغربی بنگال میں ایس آئی آر سب سے زیادہ متنازع رہا۔ سپریم کورٹ نے فروری 2026 میں ایس آئی آر کے آخری مرحلے کو الیکشن کمیشن سے ہٹا کر 60 لاکھ ایسے ووٹروں کے معاملات کی جانچ عدالتی افسران کے ذریعے کرانے کا حکم دیا تھا جن کے ناموں میں ’منطقی تضادات‘ پائے گئے تھے۔ بعد میں کمیشن نے ان میں سے 27 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کر دیے۔ عدالت نے ان فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے لیے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججوں پر مشتمل ٹریبونل قائم کرنے کا حکم دیا۔
گزشتہ ہفتے کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ٹریبونل کے سامنے 38 لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں۔ ان میں 22.21 لاکھ اپیلیں حذف کیے گئے ووٹروں نے نام بحال کرانے کے لیے دائر کی ہیں، جبکہ 16.10 لاکھ اپیلیں ان ووٹروں کے خلاف ہیں جنہیں عدالتی افسران نے فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہی معاملہ سکھبیر سنگھ سندھو نے اٹھایا۔ اگست میں انہوں نے کمیشن کے افسران سے پوچھا کہ ان ووٹروں کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کی اجازت کس نے دی اور یہ اپیلیں دراصل کس نے دائر کیں۔ ان کے مطابق نہ وہ، نہ وویک جوشی اور نہ ہی مغربی بنگال کے موجودہ چیف الیکٹورل افسر کو اس عمل کی بنیاد یا طریقۂ کار کے بارے میں بتایا گیا تھا۔
4. گوا: سافٹ ویئر نے اہل ووٹروں کو کیوں مسترد کیا؟
ووٹر لسٹ کے ڈیجیٹل نظام کی مرکزیت سے متعلق خدشات کا ایک اثر گوا میں بھی سامنے آیا۔ سپریم کورٹ نے 29 جنوری کو حکم دیا تھا کہ ایس آئی آر کے دوران ’منطقی تضادات‘ کی بنیاد پر نشان زد ووٹروں کو حتمی فہرست جاری ہونے سے پہلے دستاویزات پیش کرنے اور اپنا موقف رکھنے کا موقع دیا جائے۔ گوا کے الیکٹورل رجسٹریشن افسران نے ایسے معاملات کی سماعت کی اور دستاویزات کی بنیاد پر 97 ووٹروں کو حتمی فہرست کے لیے اہل قرار دیا، لیکن سافٹ ویئر میں ان کے فیصلے کو درج کرنے کی سہولت موجود نہیں تھی۔
11 سے 17 فروری کے درمیان گوا کے چیف الیکٹورل افسر کے دفتر نے ریاست کے انچارج سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر گیانیش بھارتی کو آٹھ مرتبہ خط لکھا اور ہر بار ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی سیما کھنہ کو بھی اس کی نقل بھیجی۔ ان خطوط میں ایسا ’رول بیک‘ آپشن فعال کرنے کی درخواست کی گئی تھی جس کے ذریعے ای آر اوز سابقہ حذف شدہ نام بحال کر سکتے تھے۔ لیکن درخواستوں کا جواب نہیں ملا اور مقررہ وقت تک یہ سہولت فعال نہیں کی گئی۔ نتیجتاً یہ 97 اہل ووٹر حتمی فہرست میں شامل نہیں ہو سکے۔
اختلاف رائے: قانون کیا کہتا ہے؟
الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت قائم ایک آئینی ادارہ ہے، جس میں چیف الیکشن کمشنر اور 2 الیکشن کمشنر شامل ہوتے ہیں۔ تینوں عہدوں کا درجہ برابر ہے اور چیف الیکشن کمشنر کو ’برابر افراد میں اول‘ کی حیثیت حاصل ہے، یعنی وہ اکیلے کسی معاملے کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ 2023 کے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز سے متعلق قانون کی دفعہ 18 کے مطابق کمیشن کا کام جہاں تک ممکن ہو اتفاق رائے سے کیا جانا چاہیے۔ اگر کمشنرز کے درمیان کسی معاملے پر اختلاف ہو تو اکثریتی رائے کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی دفعہ میں کمیشن کو اپنے کام کی تقسیم اور طریقۂ کار طے کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، لیکن اس کے لیے متفقہ فیصلہ ضروری ہے۔
دونوں الیکشن کمشنرز نے اپنے تحریری نوٹس میں ان قانونی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن کے افسران کو یاد دلایا کہ ادارے کو کس طریقے سے کام کرنا چاہیے۔ 16 اپریل کو سندھو نے سینئر افسران سے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نام سے متعدد مواصلات جاری کیے جا رہے ہیں، لیکن انہیں کمیشن کی منظوری حاصل نہیں ہوتی۔ 8 دن بعد جوشی نے بھی اسی نوعیت کا اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ تمام مواصلات کمیشن کی مطلوبہ منظوری کے بعد ہی جاری کیے جائیں۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ نے 21 ستمبر کو الیکشن کمیشن سے ان تمام اعتراضات اور ان کے ازالے کے بارے میں سوالات کیے، لیکن رپورٹ کے مطابق کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ دونوں الیکشن کمشنرز کو بھی ای میل بھیج کر پوچھا گیا کہ کیا ان کے اعتراضات دور کیے گئے اور کیا 9 ستمبر کی میٹنگ میں ان معاملات پر بات ہوئی، تاہم ان کی جانب سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ کی اس رپورٹ کے بعد ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ مشہور و معروف وکیل پرشانت بھوشن کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن ایس آئی آر کے بارے میں ای سی آئی کی الگ الگ ہدایات پر گیانیش کمار کے اقدام کا 3/2 الیکشن کمشنرز نے مخالفت کی تھی۔ لیکن حکومت کے خاص آدمی گیانیش کمار نے غیر قانونی طریقے سے ہدایات جاری کرنا جاری رکھا، جس کے سبب اب تک 13 کروڑ سے زیادہ ووٹرز ووٹ دینے کے حق سے محروم ہو گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کو اس معاملے میں از خود نوٹس لینا چاہیے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’آج انڈین ایکسپریس‘ میں شائع خبر یہ بتاتی ہے کہ کس طرح گیانیش کمار نے ایس آئی آر کرانے کے طریقے پر باقی 2 الیکشن کمشنرز ک اعتراضات کو غیر قانونی طریقے سے نظر انداز کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی منمانی کی۔ یہ خبر اتنی سنگین ہے کہ گیانیش کمار کو فوراً ہٹانا چاہیے اور ان پر قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘
اس معاملے میں کانگریس نے بھی سرگرمی دکھاتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری ایک پوسٹ میں مطلع کیا ہے کہ کانگریس لیڈر ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی 1 بجے ایک پریس کانفرنس کریں گے، جس میں ایک مشہور میڈیا ادارہ کے ذریعہ چیف الیکشن کمشنر سے متعلق کیے گئے انکشافات پر تفصیلی بات کریں گے۔ اس پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی دیانت داری اور بھروسہ پر اٹھ رہے سوالات کا بھی احاطہ کیا جائے گا۔
