دیگر ممالک

روس-یوکرین جنگ کے درمیان امریکی سینیٹ میں 100 فیصد ٹیرف بل پر بحث کی منظوری، ہندوستان اور چین پر اثرات کا خدشہ

امریکی پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ نے 28 جولائی کو پابندیوں سے متعلق بل پر مزید بحث کی منظوری دے دی، جس میں روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی تجویز شامل ہے

<div class="paragraphs"><p>امریکہ کے صدر&nbsp;ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو سوشل میڈیا)</p></div>

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو سوشل میڈیا)

 

روس اور یوکرین جنگ کے درمیان امریکہ نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے، جس کا اثر ہندوستان جیسے ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے۔ امریکی پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ نے منگل کے روز، 28 جولائی کو ان پابندیوں سے متعلق بل پر مزید بحث کی منظوری دے دی، جس میں روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اگر یہ بل آگے چل کر ’ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز‘ سے بھی منظور ہو جاتا ہے، تو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ہندوستان اور چین جیسے ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔

سینیٹ میں اس بل پر مزید بحث شروع کرنے کی حمایت میں 86 سینیٹروں نے ووٹ دیا، جبکہ 12 سینیٹروں نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے ساتھ ہی بل نے اپنی پہلی پارلیمانی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ اب اس پر تفصیلی بحث ہوگی، جس کے بعد حتمی رائے شماری کرائی جائے گی۔ بل میں روسی حکام، بڑے کاروباری (اولیگارکس)، مالیاتی اداروں اور ’شیڈو فلیٹ‘ پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز ہے، جسے روس اپنے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اس تجویز کے تحت صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ روس سے تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک، مثلاً ہندوستان اور چین سے آنے والے سامانوں پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کر سکیں۔ بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ روس کی توانائی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو روکنا ضروری ہے، کیونکہ اسی آمدنی کے سہارے صدر ولادیمیر پوتن یوکرین میں جاری جنگ کے اخراجات پورے کر رہے ہیں۔ کیوں کہ یہ جنگ اب پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس بل پر ووٹنگ ایسے وقت ہوئی ہے، جب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی واشنگٹن کے دورے پر تھے۔ ووٹنگ کے دوران وہ سینیٹ کی گیلری میں موجود رہے۔

اس سے قبل انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور روس کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں زیلنسکی نے ریپبلکن لیڈر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں بھی شرکت کی۔ گراہم امریکی کانگریس میں اسرائیل اور یوکرین کے مضبوط حامیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ووٹنگ سے قبل زیلنسکی نے امریکی سینیٹروں سے بھی خطاب کیا اور یوکرین کی حمایت کے ساتھ روس پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے اور امریکہ کی قیادت میں جاری امن کی کوششیں اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں کر سکی ہیں۔

ان پابندیوں سے متعلق بل کا نام مرحوم ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اس تجویز کی حمایت میں ایک سال سے زائد عرصے تک کام کیا تھا۔ اسی ماہ ان کے انتقال سے قبل وائٹ ہاؤس کے ساتھ بل کے نظرثانی شدہ مسودے پر بھی اتفاق رائے ہو گیا تھا۔ تاہم امریکی پارلیمنٹ کا ایوان زیریں ’ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز‘ پہلے ہی گرمیوں کی تعطیلات پر جا چکا ہے۔ ایسے میں امکان کم ہے کہ یہ بل ستمبر سے پہلے وہاں پیش کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔