دیگر ممالک

امریکہ نے ایران کے آئل ٹینکر پر کیا حملہ، خارگ جزیرہ کے پاس ہوئے زوردار دھماکے!

آبنائے ہرمز سے بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی مصنوعات دنیا کے مختلف مقامات تک پہنچتی ہیں۔ اس راستے پر طویل عرصہ تک جہازوں کی آمد و رفت متاثر رہنے سے عالمی تیل سپلائی کو لے کر تشویش بڑھ سکتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>

علامتی تصویر

 

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے درمیان خلیجی خطہ ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے ایرانی سرکاری میڈیا آؤٹ لیٹ ’نور نیوز‘ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ ہفتہ کو ایک امریکی جہاز کی ایرانی تیل کے ٹینکر سے ٹکر ہو گئی۔ اس کے بعد ایران کے اہم تیل مرکز خارگ جزیرہ کے آس پاس دھماکوں کی آواز سنائی دینے کی خبر سامنے آئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ کئی مہینوں سے جاری تنازعہ حالیہ دنوں میں مزید سنگین ہو گیا ہے۔ خاص طور سے آبنائے ہرمز کے آس پاس فوجی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ یہ سمندری راستہ دنیا کے لیے ایندھن سپلائی کا انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں کسی بھی بڑے فوجی تناؤ سے بین الاقوامی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ایران نے اس علاقہ میں سمندری آمد و رفت پر روک لگانے کی کوشش کی ہے، جبکہ امریکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت برقرار رکھنے اور ایرانی کنٹرول کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس کشیدگی کے درمیان امریکہ نے 30 اگست کو ایران کے لارک جزیرہ پر حملے کیے تھے۔ امریکی فوج کے مطابق وہاں موجود ایرانی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ ان ٹھکانوں سے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے اور جہازوں کی آمد و رفت کے لیے خطرہ پیدا کرنے کی صلاحیت وابستہ تھی۔ اس کے جواب میں ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا۔

اس کے محض چند دن بعد یکم ستمبر کو امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں دوبارہ حملے کیے۔ امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی میں ایئر ڈیفنس سسٹم، رڈار اسٹیشن، سمندری وسائل، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے بھی جوابی کارروائی کی اور بحرین، اردن و عراق سمیت خلیجی خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سے وابستہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

اب اس تنازعہ کا اثر سمندری آمد و رفت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ’رائٹرز‘ کی رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے آس پاس جہازوں پر فائرنگ اور دیگر حملوں کے واقعات نے سمندری تجارت کو متاثر کیا ہے۔ خارگ جزیرہ ایران کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ملک کے اہم تیل برآمدی مراکز میں شامل ہے۔ ایسے میں اس علاقے میں کسی بھی فوجی واقعہ سے تیل کی مارکیٹ میں تشویش بڑھ سکتی ہے۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے عام حالات میں بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی مصنوعات دنیا کی مختلف مارکیٹوں تک پہنچتی ہیں۔ اگر اس راستے پر طویل عرصہ تک جہازوں کی آمد و رفت متاثر رہتی ہے تو عالمی تیل سپلائی کو لے کر تشویش بڑھ سکتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے حملوں، سمندری جہازوں سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس اور خارگ جزیرہ جیسے اہم تیل مراکز کے آس پاس کشیدگی نے توانائی مارکیٹ کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ تنازعہ محدود فوجی کارروائی تک رہتا ہے یا آبنائے ہرمز میں سمندری تصادم مزید وسیع شکل اختیار کرتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔