ڈیفنس میزائل، تصویر سوشل میڈیا
ایران اور امریکہ کے مابین وقفہ وقفہ پر جنگ جاری ہے۔ اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے ایک دن بعد امریکہ نے جوابی حملہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 30 جولائی کی صبح امریکی فوج نے ایران کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ’امریکی سینٹرل کمانڈ‘ (سینٹ کام) نے بھی ان حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔ سینٹ کام نے کہا کہ ’’یہ کارروائی اردن میں امریکی ٹھکانوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔‘‘ حملوں سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارے دیے تھے کہ سخت جواب دیا جائے گا۔
اوول آفس کے صحافیوں سے بات چیت کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’اب ہماری باری ہے۔ ہم ان پر زوردار حملہ کرنے جا رہے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ ایسا ہونے والا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی دعوی کیا کہ ایران نے تسلیم کیا ہے کہ میزائل لانچ ایک غلطی تھی اور اور اس نے امریکہ سے جوابی کارروائی نہیں کرنے کی اپیل کی تھی۔ ایران پر یہ تازہ امریکی حملہ 5 دنوں کے توقف کے بعد ہوا ہے۔ اس سے قبل مسلسل 13 دنوں تک امریکی فوج ایرانی ٹھکانوں پر حملے کر چکی تھی۔ اس کے بعد کچھ دنوں تک فوجی کارروائی رکی رہی، لیکن اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کے بعد امریکہ نے پھر جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔
امریکی حملوں کے بعد ایرانی سرکاری میڈیا نے ملک کے کئی حصوں میں دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارہ ’آئی آر آئی بی‘ کے مطابق صوبہ بوشہر میں دھماکے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ جہاں ایران کا ایک واحد ’ایٹمی توانائی پلانٹ‘ واقع ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی خطوں میں بھی کئی دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔ خبر رساں ایجنیسی ’تسنیم‘ نے بتایا کہ جزیرۂ قشم پر 3 دھماکے ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق ایک میزائل رہائشی علاقے میں گری ہے۔ فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ پریس ٹی وی نے بھی امریکی حملوں کے بعد کئی مقامات پر دھماکوں کی خبر دی ہے۔ آئی آر آئی بی نے ایک ڈپٹی سیکورٹی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ صوبہ خوزستان کے شہر آبادان میں بعض مقامات کو امریکی فوج نے نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ صوبہ ہرمزگان کے بندر عباس، ابوموسی، کیش اور قشم جزائر پر بھی دھماکے کی اطلاع ملی ہے۔ وہیں حکام نے واضح کیا ہے کہ سرک شہر پر کسی حملے کی اطلاع نہیں ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔