دنیا کا نقشہ بدلنے کا وقت...اشوک سوین

مرکیٹر نقشہ دنیا کے مختلف خطوں کے حجم کو غیر متناسب دکھاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ مساوی رقبہ والی نقشہ نگاری حقیقی جغرافیائی تناسب سامنے لاتی ہے اور پرانی بصری تحریف کی درستگی پر زور دیتی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

اشوک سوین

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جغرافیائی حقیقت کے اعتبار سے ایک دیرینہ اور انتہائی ضروری قدم اٹھایا ہے۔ 4 ستمبر کو 164 ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس میں ایسے عالمی نقشوں کے وسیع پیمانے پر استعمال کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو براعظموں اور ممالک کو ان کے حقیقی متناسب حجم میں دکھاتے ہیں۔ صرف امریکہ نے اس کی مخالفت کی، جبکہ چھ ممالک ووٹنگ سے الگ رہے۔ یہ قرارداد موجودہ مرکیٹر پروجیکشن پر پابندی عائد نہیں کرتی اور نہ ہی کسی ملک کو کسی مخصوص نقشہ کے استعمال کا پابند بناتی ہے۔ البتہ حکومتوں، اسکولوں، بین الاقوامی اداروں، ذرائع ابلاغ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ترغیب دیتی ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں کے حجم کا موازنہ کرتے وقت مساوی رقبہ والے نقشے، خصوصاً ’ایکول ارتھ‘ پروجیکشن، استعمال کریں۔

اصولی طور پر اس پر کسی تنازعہ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تھی۔ دنیا کا جغرافیہ پڑھانے کے لیے استعمال ہونے والے نقشہ کو ہماری زمین کی ممکنہ حد تک درست اور حقیقی نمائندگی کرنی چاہیے۔ اس کے باوجود پرانے نقشہ کے حامیوں نے اس سادہ اور بنیادی اصول کو بھی ایک سیاسی حملے کے طور پر لیا ہے۔ ان کا ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسان کسی مانوس تحریف سے بھی کس طرح جذباتی طور پر وابستہ ہو سکتا ہے۔

مرکیٹر پروجیکشن 1569 میں گیرارڈس مرکیٹر نے بحری جہاز رانی کے لیے تیار کیا تھا۔ یہ نقشہ سمندری سفر کے لیے ایک انقلابی پیشرفت تھا، کیونکہ اس میں جہاز کے راستے کو سیدھی لکیر کے طور پر دکھایا جا سکتا تھا۔ ملاح دو مقامات کے درمیان سیدھی لکیر کھینچ کر کمپاس کے ذریعے مطلوبہ سمت معلوم کر سکتے تھے اور سمندر میں اسی راستے پر سفر کر سکتے تھے۔

اس کے برعکس اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ’ایکول ارتھ‘ نقشہ نگاری میں سمت ایک خم دار لکیر کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کی وجہ سے روایتی بحری رہنمائی میں یہ قدرے کم آسان ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ سمندری سفر کے لیے انتہائی مفید کوئی نیوی گیشن چارٹ کلاس روم، نیوز روم یا بین الاقوامی اداروں کے لیے بھی بہترین نقشہ ہو۔


مرکیٹر پروجیکشن خطِ استوا سے دور واقع علاقوں کو غیر معمولی حد تک بڑا دکھاتا ہے۔ نتیجتاً یورپ، شمالی امریکہ، گرین لینڈ اور روس، افریقہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا کے بڑے حصوں کے مقابلے میں اپنے حقیقی حجم سے کہیں زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی خطہ خطِ استوا سے جتنا دور ہوتا ہے، اس کے حجم کو اتنا ہی زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

اس کی سب سے حیران کن مثال افریقہ اور گرین لینڈ کا موازنہ ہے۔ مرکیٹر نقشے پر دونوں تقریباً یکساں حجم کے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ حقیقت میں افریقہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا بڑا ہے۔ افریقہ کا رقبہ 3 کروڑ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ یہ اتنا وسیع براعظم ہے کہ امریکہ، چین، ہندوستان اور یورپ کا بیشتر حصہ اس میں سما سکتا ہے۔ لیکن اسکول کے بچوں کو دکھائے جانے والے نقشوں میں افریقہ یورپ سے معمولی سا بڑا دکھائی دیتا ہے۔

یہ ڈیزائن کی کوئی معمولی یا محض تکنیکی خامی نہیں ہے۔ یہ ہمارے سیارے کی ایک غلط اور گمراہ کن تصویر ہے، جسے اتنی مرتبہ دہرایا گیا ہے کہ بیشتر لوگ اس پر سوال اٹھانا ہی بھول چکے ہیں۔ جو چیز مانوس ہو جاتی ہے، وہ فطری محسوس ہونے لگتی ہے، جبکہ ایک زیادہ درست نقشہ صرف اس لیے عجیب دکھائی دیتا ہے کہ لوگوں کو غلط تناسب ہی کو حقیقت سمجھنے کی عادت پڑ چکی ہے۔

موجودہ صورتِ حال کے حامی اکثر دلیل دیتے ہیں کہ ہر فلیٹ نقشہ کرۂ ارض کو کسی نہ کسی حد تک مسخ کرتا ہے۔ یہ بات درست ہے، لیکن اس سے مرکیٹر پروجیکشن کے مسلسل غلط استعمال کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ ہر پیمائشی آلے کی اپنی حدود ہوتی ہیں، لیکن جب بہتر متبادل دستیاب ہو تو ہم جان بوجھ کر ناموزوں آلے کا استعمال جاری نہیں رکھتے۔ مثلاً میٹرو کا نقشہ مسافروں کو راستے سمجھانے کے لیے فاصلوں میں تحریف کرتا ہے، لیکن اس کا مقصد جغرافیائی حقیقت کی درست نمائندگی کرنا نہیں ہوتا۔


’ایکول ارتھ‘ اس کے مقابلے میں ایک واضح اور سائنسی متبادل پیش کرتا ہے۔ 2018 میں تیار کیا گیا یہ مساوی رقبے والا پروجیکشن براعظموں اور ممالک کے حقیقی باہمی رقبے کو برقرار رکھتا ہے اور ساتھ ہی ان کی اصل شکل کو بھی بڑی حد تک قابلِ شناخت رکھتا ہے۔ چونکہ زمین گول ہے، اس لیے کوئی بھی فلیٹ نقشہ بیک وقت رقبے، شکل، فاصلے اور سمت، ان چاروں کو مکمل درستگی کے ساتھ پیش نہیں کر سکتا۔ لیکن جب مقصد یہ بتانا ہو کہ دنیا کا ایک خطہ دوسرے کے مقابلے میں حقیقتاً کتنا بڑا ہے تو ’ایکول ارتھ‘ وہ حقیقت سامنے لاتا ہے جسے مرکیٹر پروجیکشن صدیوں سے مسخ کرتا آیا ہے۔

اس تبدیلی کی مخالفت کو تاریخ اور طاقت کے سوالات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ نقشے محض ساحلی خطوط اور سرحدوں کے خاکے نہیں ہوتے؛ وہ اس بات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں کہ لوگ دنیا کا تصور کس طرح کرتے ہیں۔ بڑے خطے فطری طور پر زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں اور اپنی اہمیت کا زیادہ احساس پیدا کرتے ہیں۔ جب یورپ اور شمالی امریکہ کو غیر معمولی طور پر بڑا، جب کہ افریقہ اور دیگر خطِ استوا کے قریب واقع علاقوں کو چھوٹا دکھایا جاتا ہے تو نقشہ غیر ارادی طور پر ممالک اور خطوں کی ایک ’بصری درجہ بندی‘ تشکیل دیتا ہے۔

مرکیٹر نے اپنا پروجیکشن کسی نوآبادیاتی سازش کے تحت تیار نہیں کیا تھا۔ تاہم بعد کے دور میں اس کا غلبہ یورپی طاقت کے مراکز پر مبنی نوآبادیاتی دنیا کے لیے خاصا موزوں ثابت ہوا۔ یورپی سلطنتوں کا افریقہ، ایشیا اور امریکہ کے وسیع علاقوں پر قبضہ تھا، اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والے نقشے نے ان سامراجی مراکز کو بہت بڑا، جب کہ زیرِ تسلط علاقوں کو نسبتاً چھوٹا دکھایا۔ نوآبادیاتی حکمرانی کے باضابطہ خاتمے کے بعد بھی یہ پروجیکشن برقرار رہا۔ سیاسی نقشہ تو مکمل طور پر بدل گیا، لیکن پرانی بصری تحریف اور تعصب کلاس رومز کی دیواروں پر بدستور موجود رہا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کی مخالفت خاص طور پر قابلِ غور تھی۔ اس کے نمائندے نے قرارداد کو ایک انتہا پسند نظریاتی ایجنڈے کا حصہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور یہاں تک کہا کہ 16ویں صدی کے کسی نقشے پر بحث کرنا اقوام متحدہ کے شایانِ شان نہیں۔ یہ شدید ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ یہ بحث کس قدر حساس ہے، کیونکہ یہ دنیا کو دیکھنے کے ایک قائم شدہ طریقہ کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے۔


یقیناً محض نقشہ تبدیل کرنے سے غربت ختم نہیں ہوگی، بین الاقوامی قرضے معاف نہیں ہوں گے اور نہ ہی غیر منصفانہ عالمی نظام راتوں رات تبدیل ہو جائے گا۔ یہ اقدام افریقی ممالک کو درپیش سیاسی اور معاشی بحرانوں کا ازخود حل بھی نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک غلط پیمانہ ہوگا کہ نقشہ کی اس اصلاح کو انہی نتائج کے معیار پر پرکھا جائے۔ کوئی یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ ایک منصفانہ نقشہ حقیقی معاشی اور مادی انصاف کا متبادل بن سکتا ہے۔ یہ اصلاح صرف افریقہ تک محدود نہیں۔ مرکیٹر پروجیکشن جنوبی امریکہ کے حجم کو بھی کم کرکے دکھاتا ہے اور جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا، کیریبین اور اوشیانا کے متعدد ممالک کی بھی غلط نمائندگی کرتا ہے۔ مساوی رقبے والے نقشے زمین کے استعمال، آبادی کی کثافت، ماحولیاتی نظام، خوراک کی پیداوار اور موسمیاتی حساسیت کو سمجھنے میں کہیں زیادہ واضح اور سائنسی تصور فراہم کر سکتے ہیں۔

’ایکول ارتھ‘ اپنانے میں آنے والی لاگت کا بہانہ بھی کوئی سنجیدہ دلیل نہیں ہو سکتا۔ ہم ایسے دور میں رہتے ہیں جہاں سیٹلائٹ دور دراز علاقوں کی غیر معمولی تصاویر لے سکتے ہیں اور ڈیجیٹل خدمات ہر سڑک، عمارت اور دکان کا نقشہ تیار کر سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک عام سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے دنیا بھر کی اسکرینیں تبدیل کر سکتی ہیں۔ ناشر باقاعدگی سے نصابی کتابوں کے نئے ایڈیشن شائع کرتے ہیں اور اسکول ہر سال تعلیمی مواد تبدیل کرتے ہیں۔ یہ دلیل ناقابلِ فہم ہے کہ ہم دنیا کی ہر گلی کا نقشہ تو بنا سکتے ہیں، لیکن دنیا کے نقشے کو درست نہیں کر سکتے۔

اب اقوام متحدہ کو خود مثال قائم کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ اس کے اداروں کو جہاں بھی مختلف خطوں کے باہمی حجم کو دکھانے کی ضرورت ہو، مساوی رقبے والے پروجیکشن کو ترجیح دینی چاہیے۔ حکومتوں کو اپنے نصاب اور سرکاری اشاعتوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ ذرائع ابلاغ کو اپنی خبروں میں استعمال ہونے والے نقشوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو عالمی سطح پر گلوب یا مساوی رقبے والا پروجیکشن دکھانا چاہیے، جب کہ بحری رہنمائی جیسے مخصوص مقاصد کے لیے مرکیٹر کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

اساتذہ کو بھی طلبہ کو یہ سمجھانا چاہیے کہ مختلف نقشہ جاتی پروجیکشنز میں بنیادی فرق کیا ہوتا ہے، تاکہ نئی نسل نقشوں کو ناقابلِ تردید حقیقت سمجھنے کے بجائے ان پر منطقی سوال اٹھانا سیکھے۔ دنیا کو درست طور پر دیکھنے کے لیے ہمیں صرف نقشہ کی لکیریں نہیں، بلکہ ان لکیروں کے پیچھے موجود مفروضوں کو بھی سمجھنا ہوگا۔

(مضمون نگار اشوک سوین، سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں پیس اینڈ کنفلکٹ ریسرچ کے پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔