دیگر ممالک

حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد کیا امریکہ نے سعودی عرب کو مدد دینے سے انکار کیا؟

اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے یمن میں براہ راست مداخلت سے خود کو دور کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

اطلاعات کے مطابق عمان میں امریکی حکام اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی رہنماؤں کے درمیان مبینہ مذاکرات کے بعد امریکہ نے یمن میں براہ راست فوجی مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسقط میں ہونے والی میٹنگ میں حوثیوں نے واشنگٹن کو یقین دلایا کہ وہ امریکا کے ساتھ جنگ ​​بندی کو برقرار رکھیں گے اور بحیرہ احمر میں امریکی جہازوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے آبنائے باب المندب کے قریب تزویراتی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور سعودی حمایت یافتہ افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس گروپ نے سعودی سرزمین پر ڈرون اور میزائل حملے بھی تیز کر دیے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق حوثیوں نے امریکی حکام کو بتایا کہ 2025 کی جنگ بندی اب بھی نافذ العمل ہے اور ان کا بحیرہ احمر میں امریکی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ حوثی باغیوں کی پیش قدمی سے جہاز رانی کے اہم راستوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے سعودی عرب کی حفاظت کے لیے امریکی فوج بھیجنے کا وعدہ نہیں کیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو تصدیق کی کہ واشنگٹن حوثیوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے، لیکن اس نے بات چیت کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

واشنگٹن کے دور رہنے کے فیصلے نے سعودی عرب پر حوثی باغیوں کو روکنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے، چاہے وہ مذاکرات کے ذریعہ ہو یا علاقائی اتحاد کے ذریعہ ہو۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گزشتہ ہفتے امریکی فوجی مدد کے لیے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا تھا۔ تاہم، واشنگٹن نے اشارہ دیا کہ وہ براہ راست شرکت نہیں کرے گا۔

حوثی ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی قیادت میں اتحاد کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں جنگ بندی کی وجہ سے تناؤ میں کچھ کمی آئی تھی لیکن جولائی میں اس گروپ کی جانب سے سعودی جہاز رانی کو روکنے کے بعد تنازعہ پھر سے بھڑک اٹھا۔ امریکہ نے مارچ 2025 میں حوثیوں کو ایک "غیر ملکی دہشت گرد تنظیم" قرار دیا۔ بعد میں واشنگٹن نے اس گروپ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے، اور دو ماہ کی امریکی بمباری مہم کے بعد مئی 2025 میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔