
ابر کواس، تصویر @AberKawas
امریکہ کے وسط مدتی انتخاب میں باحجاب فلسطینی نژاد امریکی خاتون ابر کواس نے نیویارک اسٹیٹ سینیٹ کی سیٹ جیت کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ پہلی فلسطینی نژاد امریکی خاتون ہیں، جسے نیویارک کی ریاستی مقننہ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ کواس نے نیویارک اسٹیٹ سینیٹ ڈسٹرکٹ 12 کی سیٹ پر جیت حاصل کی ہے۔ جیت کے بعد کواس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہم نے تاریخ رقم کر دی ہے۔‘‘
بروکلین کی رہنے والی 34 سالہ فلسطینی نژاد امریکی ابر کواس نے 74.3 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے ریپبلکن امیدوار ہان کھون ٹو کو بڑے فرق سے شکست دی۔ کواس نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اور سینیٹر برنی سینڈرس کی حمایت سے پرائمری انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی اور ریاستی مقننہ کی نشست کے لیے اپنی امیدواری پکی کی تھی۔ وہ پہلی فلسطینی امریکی نژاد ہونے کے ساتھ ہی نیویارک کی ریاستی مقننہ کے لیے منتخب ہونے والی پہلی مسلسم خاتون بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے لیے امریکی فنڈنگ کی مخالفت کی تھی۔
پہلی بار انتخابی میدان میں اترنے والی ابر کواس کی یہ جیت کافی اہم ہے۔ انہوں نے جون میں اسٹیٹ سینیٹ ڈسٹرکٹ 12 کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کی تھی۔ کوینس کا یہ علاقہ ڈیموکریٹک پارٹی کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ کئی پروگریسیو ڈیموکریٹس نے ان کی حمایت کی۔ ان میں ظہران ممدانی، سینیٹر برنی سینڈرس اور ہاؤس کی رکن رشیدہ طلیب شامل ہیں۔ ابر کواس نے ڈیمکوریٹک کے سوشل ایجنڈے کے تحت انتخاب لڑا تھا۔ انہیں ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ اس گروپ نے گزشتہ سال سے کافی ترقی کی ہے، جب اس کے رکن ظہران ممدانی نے نیویارک شہر میں میئر کا انتخاب جیتا تھا۔
ابر کواس کی پیدائش نیویارک میں ہوئی اور ان کی پرورش بھی یہیں ہوئی۔ ان کے والدین فلسطینی تھی، جو 1990 کی دہائی میں امریکہ آ کر بس گئے تھے۔ سیاست میں آنے سے قبل کواس نے 15 سال سے زائد تک ایک کنوینر کے طور پر کام کیا۔ اس دوران وہ ملازمین کے حقوق، مہاجر برادریوں اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ گزشتہ دنوں انہوں نے نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ اور اسرائیلی سرویلنس کمپنی کاگرائٹ کے دوران ہوئے ایک معاہدے کی مخالفت کی تھی۔ 750000 ڈالر کے اس معاہدے کا مقصد اے آئی پر مبنی موبائل فون ٹریکنگ تکنیک تیار کرنا تھا۔ سول رائٹس گروپس کی سخت مخالفت کے بعد این وائی پی ڈی نے گزشتہ ہفتہ اس معاہدے سے قدم پیچھے کھینچ لیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔