امریکہ وسط مدتی انتخاب: نتائج میں ٹرمپ کے خلاف غصہ ظاہر، جارجیا سے ٹیکساس تک ڈیموکریٹس کی فتح!

تقریباً 75 فیصد ووٹرز ملک کی موجودہ سمت و رفتار سے ناراض یا غیر مطمئن ہیں۔ علاوہ ازیں تقریباً 60 فیصد لوگوں نے ٹرمپ کے کام سے اختلاف کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا امتحان بن گئے ہیں۔ انہوں نے مسلسل اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس طرح ووٹ دیں، جیسے انتخابات میں خود ٹرمپ میدان میں ہوں۔ امریکی ووٹرز نے ان کی اس اپیل پر عمل تو کیا، لیکن انتخابی نتائج ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کی امیدوں کے بالکل برعکس رہے۔ امریکی وقت کے مطابق منگل (ہندوستان میں بدھ) کو آنے والے انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کئی اہم ریاستوں میں بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ جارجیا، ٹیکساس، اوہیو، مشیگن، نارتھ کیرولینا اور نیو ہیمپشائر جیسی ریاستوں میں ریپبلکن امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان نتائج کو ٹرمپ کی پالیسیوں اور ان کی قیادت کے خلاف عوامی ناراضگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انتخابات سے پہلے ہی مہنگائی، ایران کے ساتھ جنگ اور ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت ریپبلکن پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر رہی تھیں۔ تقریباً 75 فیصد ووٹرز ملک کی موجودہ سمت و رفتار سے ناراض یا غیر مطمئن ہیں۔ علاوہ ازیں تقریباً 60 فیصد لوگوں نے ٹرمپ کے کام سے اختلاف کیا ہے۔ ڈیموکریٹس کی اس کامیابی سے اب امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کی ان کی امید بھی مضبوط ہوئی ہے۔


انتخابی نتائج سے اشارہ ملتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتخابی حمایت کی بنیاد کمزور پڑ رہی ہے۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت کرنے والے نوجوانوں اور ہسپانوی ووٹرز کا ایک بڑا حصہ اس بار ڈیموکریٹس کی طرف جاتا دکھائی دیا۔ رپورٹ کے مطابق 30 سال سے کم عمر والے ووٹرز میں تقریباً 70 فیصد نے اپنے علاقہ میں ڈیموکریٹک امیدوار کو ووٹ دیا۔ 2024 میں اسی عمر کے ووٹرز ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان تقریباً برابر تقسیم تھے۔

ہسپانوی ووٹرز میں بھی ریپبلکن پارٹی کی حمایت کم ہوئی ہے۔ تقریباً 60 فیصد ہسپانوی ووٹرز نے اپنے علاقہ میں ڈیموکریٹک امیدوار کی حمایت کی۔ اسی طرح تقریباً 70 فیصد ہسپانوی ووٹرز کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے امریکہ کی اقتصادی صورت حال خراب ہوئی ہے۔ تقریباً 60 فیصد ووٹرز نے مہنگائی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔


انتخابی نتائج میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ووٹ دیتے وقت جن لوگوں نے ٹرمپ کو ذہن میں رکھا، ان میں ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد حمایت کرنے والوں سے تقریباً دو گنا تھی۔ تقریباً 70 فیصد ووٹرز چاہتے ہیں کہ کانگریس صدر کے اختیارات پر زیادہ کنٹرول رکھے۔ تقریباً 60 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ ملک کے مفادات سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

بہرحال، ڈیموکریٹک پارٹی نے کئی ایسی ریاستوں میں کامیابی حاصل کی، جہاں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے بڑی برتری حاصل کی تھی۔ جارجیا، اوہیو اور ٹیکساس میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور گورنر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ ٹیکساس میں ٹرمپ نے 2024 میں 14 فیصد اور اوہیو میں 11 فیصد ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔ جارجیا میں ڈیموکریٹ کیشا لانس باٹمس ریاست کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں، جبکہ سینیٹر جان اوسوف نے دوبارہ انتخاب جیت لیا۔ نارتھ کیرولینا میں سابق گورنر رائے کوپر نے سینیٹ کا انتخاب جیت لیا۔ نیو ہیمپشائر میں کرس پاپاس نے کامیابی حاصل کی۔ وہ امریکی سینیٹ کے پہلے کھلے طور پر ہم جنس پرست رکن ہوں گے۔


اوہیو میں سابق سینیٹر شیروڈ براؤن نے ریپبلکن پارٹی کی نشست چھین لی۔ وہیں، گورنر کے انتخاب میں ایمی ایکٹن نے ٹرمپ کے قریبی ساتھی وویک راماسوامی کو شکست دے دی۔ ٹیکساس میں 37 سالہ ڈیموکریٹ لیڈر جیمس تالاریکو سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے، جبکہ جینا ہینوجوسا نے 3 بار کے گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر ریاست کی پہلی لاطینی خاتون گورنر بننے کا تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا۔ کنساس میں بھی ڈیموکریٹ ایڈم ہیملٹن نے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دے دی، اور ساؤتھ کیرولینا میں ٹرمپ کی جانب سے منتخب کی گئی امیدوار ڈارلین گراہم کو ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز نے شکست دی۔ اسے ٹرمپ کے لیے خاص طور پر بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی اب امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کی امید کر رہی ہے۔ فی الحال سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے پاس 53 اور ڈیموکریٹس کے پاس 47 نشستیں ہیں۔ سینیٹ پر قبضہ کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ان ریاستوں میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی، جہاں 2024 میں ٹرمپ نے جیت درج کی تھی۔ دوسری طرف ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) میں ریپبلکن پارٹی کے پاس پہلے سے ہی بہت معمولی اکثریت ہے۔ موجودہ ایوان میں ریپبلکنز کے پاس 220 اور ڈیموکریٹس کے پاس 215 نشستیں ہیں۔ ڈیموکریٹس کی نظریں 60 سے زیادہ نشستوں پر لگی ہوئی ہیں۔ ان میں کئی ایسے علاقے بھی شامل ہیں، جہاں ٹرمپ نے 2024 میں دوہرے ہندسوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک صرف 3 بار ایسا ہوا ہے، جب وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں کا کنٹرول ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کے پاس چلا گیا۔ ایسا 1946، 1994 اور 2006 میں ہوا تھا۔ 2026 میں ڈیموکریٹس ایک بار پھر ایسا کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔


ٹرمپ نے گزشتہ سال ٹیکساس میں کانگریس کی نشستوں کے انتخابی نقشے یعنی انتخابی حلقوں کی حد بندی تبدیل کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ اس کا مقصد ریپبلکن پارٹی کو زیادہ نشستیں دلانا تھا۔ اس کے جواب میں کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے بھی اپنی ریاست میں انتخابی حلقوں کی حد بندی تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد کئی ریپبلکن اور ڈیموکریٹک ریاستوں میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔ کاغذ پر ٹرمپ کی حمایت یافتہ اس حکمت عملی سے ریپبلکن پارٹی کو 9 اضافی نشستوں کا فائدہ ملنے کا اندازہ تھا۔ لیکن اب اس کے برعکس نتائج سامنے آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ فلوریڈا میں ڈیموکریٹک امیدواروں نے ان 3 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جن کی حد بندی ریپبلکن پارٹی نے اپنے امیدواروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تبدیل کی تھی۔ ان میں جیرڈ موسکووٹز نے 25ویں ضلع، پیا ڈنڈیا نے 22ویں ضلع اور کیتھی کاسٹر نے 14ویں ضلع سے کامیابی حاصل کی۔

ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی خراب کارکردگی کے باوجود ڈیموکریٹک پارٹی کے سامنے بھی چیلنجز موجود ہیں۔ ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کے ووٹر پول کے مطابق تقریباً نصف امریکی ووٹر ڈیموکریٹک پارٹی کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے بارے میں منفی رائے رکھنے والوں کی تعداد تقریباً 60 فیصد ہے۔ پارٹی کے اندر اعتدال پسند اور ترقی پسند گروپ کے درمیان بھی سیاسی سمت کو لے کر رسہ کشی جاری ہے۔ پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو اور میری لینڈ کے گورنر ویس مور نے دوبارہ انتخاب جیت کر اعتدال پسند دھڑے کو مضبوطی دی ہے۔ دونوں کو 2028 کے صدارتی انتخابات کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اب ان نتائج کا اثر 2028 کے صدارتی انتخابات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے لیے یہ ایک اشارہ ہے کہ ان کی پالیسیوں، مہنگائی اور قیادت کو لے کر عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ وہیں، ڈیموکریٹس کے سامنے اس برتری کو برقرار رکھنے اور اپنی پارٹی کی شبیہ بہتر بنانے کا چیلنج ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔