’آئیے اور بحث کیجیے، آپ کیوں ڈرتے ہو؟‘ راہل گاندھی کے چیلنج پر کانگریس نے پی ایم مودی کو للکارا

پون کھیڑا نے کہا کہ ’’ان کا (مودی حکومت کا) نصاب صرف اسلام، ہندوؤں اور مسلمانوں پر مرکوز ہے۔ اس میں حکومت چلانے، معیشت کو بہتر کرنے، نوجوانوں کی فکر دور کرنے سے متعلق کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پی ایم مودی اور راہل گاندھی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے پی ایم مودی کو ’اوپن ڈیبیٹ‘ یعنی مباحثہ کا چیلنج پیش کیا ہے، اور اس کے لیے انھیں 24 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ پی ایم مودی راہل گاندھی سے فائنانشیل سسٹم، ہند-امریکہ معاہدہ، اڈانی کیس، ایپسٹین جیسے معاملوں پر کھلی بحث کرنا چاہتے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ آزادی دی ہے کہ مباحثہ کے لیے جگہ کا انتخاب وہ خود کریں۔ راہل گاندھی کا یہ چیلنج سرخیوں میں ہے، کیونکہ راہل گاندھی نے اس معاملہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ووٹنگ بھی شروع کر دی ہے۔ اس معاملہ میں سیاسی رد عمل بھی خوب دیکھنے کو مل رہا ہے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا سے جب ایک میڈیا ادارہ نے راہل گاندھی کے چیلنج سے متعلق سوال کیا، تو انھوں نے کہا کہ ’’ان کا (مودی حکومت کا) نصاب صرف اسلام، ہندوؤں اور مسلمانوں پر مرکوز ہے۔ اس میں حکومت چلانے، معیشت کو بہتر کرنے، نوجوانوں کی فکر دور کرنے، بے روزگاری سے نمٹنے، پیپر لیک کا مسئلہ سلجھانے یا خواتین کی حفاظت یقینی بنانے کے بارے میں کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اگر آپ ان سے ملازمتوں کے بارے میں کوئی سوال پوچھیں گے تو وہ ’اسلامی کٹرپسندی‘ کی بات کرنے لگتے ہیں، لیکن یہاں ’اسلامی کٹر پسندی‘ کا معاملہ ہے ہی کہاں؟ ہم آپ کو کہہ رہے ہیں کہ آئیے اور بحث کیجیے۔ آپ کیوں ڈرتے ہو؟‘‘


کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے بھی اس معاملہ میں میڈیا کو اپنا بیان دیتے ہوئے مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جہاں جمہوریت ہے، وہاں آمنے سامنے کی بحث ایشو پر مبنی ہوتی ہے۔ راہل گاندھی نے وہی کہا ہے کہ آؤ، ایک ایشو پر ہم اور آپ عوام کی عدالت میں بحث کر لیتے ہیں۔ حالانکہ پی ایم مودی کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اور سب سے بڑی بات ہے کہ اس آدمی میں اعتماد نہیں ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے میڈیا اہلکار سے سوال کیا کہ ’’ساڑھے بارہ سال میں انھوں نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے کوئی پریس کانفرنس کی ہو تو بتائیں۔ میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ اس صحت مند مقابلہ سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’وہ شخص پارلیمنٹ کی ڈھال کے پیچھے چھپ رہا ہے، جو پارلیمنٹ میں حاضر ہی نہیں ہوا۔ مودی ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں جو سب سے کم بار پارلیمنٹ میں حاضر ہوئے ہیں... آئیے آمنے سامنے، راہل گاندھی کے سوالوں کا جواب دیجیے، راہل گاندھی آپ کے سوالوں کا جواب دیں، مباحثہ ہو جائے اور ہندوستان کی عوام کو فیصلہ کرنے دیجیے، جیسا جمہوری ممالک میں ہوتا ہے۔‘‘

راہل گاندھی کے چیلنج پر جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) لیڈر منوج پانڈے نے بھی میڈیا میں اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’یہ بہت بڑی بات ہے۔ حزب اختلاف کے قائد نے جس اعتماد کے ساتھ چیلنج پیش کیا ہے، مجھے لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو اسے قبول کرنا چاہیے۔ اس چیلنج کو قبول کر کے آمنے سامنے بیٹھ کر ایک مباحثہ ہو جانا چاہیے، کیونکہ راہل گاندھی پر بھی بی جے پی اور وزیر اعظم کے زریعہ الزام عائد کیا جاتا ہے، اور وزیر اعظم پر بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔ اس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’دونوں ایک دوسرے سے سوال پوچھیں اور اس کا جواب دیں، اور ملک کی عوام اسے دیکھے گی۔ صحت مند جمہوریت میں ایسی مثالیں ہونی چاہئیں، اور قبل کے وزرائے اعظم میں اس طرح کا ایک جذبہ ہوتا تھا۔ لوگ پریس کانفرنس بھی کرتے تھے، لیکن ہمارے ’وشو گرو محترم‘ پریس کانفرنس بھی نہیں کرتے، پریس سے رو برو بھی نہیں ہوتے۔ صرف من کی بات کہنے سے کام نہیں ہوتا ہے۔ آپ کو سوالوں کے جواب دینے چاہئیں۔‘‘