دیگر ممالک

افغانستان میں علی الصبح محسوس کیا گیا زلزلہ کا تیز جھٹکا، ریکٹر اسکیل پر شدت 5.3 درج

’جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز‘ کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ زلزلے کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔ کم گہرائی میں آنے والے زلزلے سے مرکز کے آس پاس زیادہ تیز جھٹکے محسوس کیے گئے۔

<div class="paragraphs"><p>زلزلہ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

زلزلہ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس

 

افغانستان کے ہندوکش علاقے میں جمعرات کی علی الصبح زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ’نیشنل سینٹر فار سسمولوجی‘ کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلہ صبح 6.59 بجے آیا۔ اس کا مرکز 36.05 ڈگری شمالی عرض البلد اور 68.87 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔ زلزلے کا مرکز زمین سے کافی اوپر یعنی محض 10 کلومیٹر کی گہرائی پر تھا۔ کم گہرائی پر آنے والے اس جھٹکے سے متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا اور وہ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ فی الحال زلزلے کی وجہ سے کسی جانی و مالی نقصانات کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

زلزلے کا مرکز ہندوکش علاقہ بتایا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ افغانستان اور پاکستان کے قریب سب سے زیادہ زلزلہ آنے والے علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہندوکش پامیر کے علاقے میں مسلسل زلزلے کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں ’جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز‘ کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ تازہ زلزلے کی گہرائی تقریباً 10 کلو میٹر تھی۔ کم گہرائی میں آنے والے زلزلے سے مرکز کے آس پاس زیادہ تیز جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ہندوکش علاقہ ہندوستانی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان مسلسل ہو رہی ہلچل والے علاقے میں آتا ہے۔ اسی وجہ سے افغانستان، ہندوکش اور آس پاس کے پہاڑی علاقوں میں وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل افغانستان میں 27 جون 2026 کو 6.2 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا تھا، جس کے جھٹکے دہلی، جموں و کشمیر اور شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں محسوس کیے گئے تھے۔ حالانکہ اس زلزلے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔ اس سے قبل افغانستان میں 3 اپریل 2026 کو بھی شدید زلزلہ آیا تھا، جس کی شدت 5.8 درج کی گئی تھی، جبکہ اس کی گہرائی 181 کلو میٹر تھی۔ افغانستان حکومت کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں کابل صوبے کے بگرامی ضلع میں کم از کم 8 افراد کی موت ہوئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔