
محمد یونس/شیخ حسینہ (فائل)، تصویر سوشل میڈیا
بنگلہ دیش میں اس وقت اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ سیاست اور کھیل دونوں ہی شعبہ سرخیوں میں ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں ڈھاکہ کے پولیس رہے حبیب الرحمن کو عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے۔ طلبا تحریک کو بزور طاقت دبانے کے الزام میں پہلے ہی شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے، اب بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل نے ڈھاکہ کے سابق میٹروپولیٹن پولیس کمشنر حبیب الرحمن کو بھی موت کی سزا سنا کر شیخ حسینہ پر شکنجہ مزید سخت کر دیا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ جولائی-اگست 2024 میں جب بنگلہ دیش میں طلبا تحریک جاری تھی، اُس وقت حبیب الرحمن ہی ڈھاکہ کے پولیس چیف تھے۔ انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل نے اُن کے ساتھ ساتھ 2 دیگر پولیس افسران کو بھی موت کی سزا سنائی ہے۔ علاوہ ازیں 3 افراد کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی صادر کیا گیا ہے۔ 3 ججوں کی بنچ نے سابق پولیس کمشنر حبیب الرحمن، سابق جوائنٹ کمشنر سدیپ کمار چکرورتی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اخترالاسلام کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ بنچ کی صدارت جسٹس محمد غلام مرتضیٰ مجومدار کر رہے تھے۔ ان تینوں پر یہ فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں چلائے گئے مقدمہ کے بعد سنایا گیا۔
Published: undefined
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت 5 اگست 2024 کو پُرتشدد طلبا تحریک کی وجہ سے گر گئی تھی۔ اس حالت میں حسینہ نے بنگلہ دیش چھوڑ کر ہندوستان میں پناہ لی، اور اب بھی وہ بنگلہ دیش واپس نہیں گئی ہیں۔ جس دن شیخ حسینہ کی حکومت گری تھی، ڈھاکہ کے چنکھر پل میں پولیس فائرنگ میں مبینہ طور پر 6 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حادثہ میں اس وقت کے ڈھاکہ پولیس کشمنر سمیت 8 لوگوں پر الزام عائد کیے گئے تھے۔ اُس وقت کے شاہ باغ پولیس اسٹیشن کے ایک انسپکٹر اور 3 کانسٹیبل ابھی گرفتار ہیں۔ بنگلہ دیشی ٹریبونل نے چاروں کو 3-3 سال جیل کی سزا سنائی ہوئی ہے۔
Published: undefined
لوگو