
فائل تصویر آئی اے این ایس
ہندوستانی حکومت نے جمعرات (29 جنوری) کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اقتصادی سروے میں ملک کے نوجوانوں اور بچوں میں بڑھتے ’ڈیجیٹل نشے‘ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سروے میں مشورہ دیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اور آن لائن گیمبلنگ (سٹے بازی) ایپس تک رسائی کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ یہ رپورٹ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ مرکزی بجٹ پیش کیے جانے سے کچھ روز قبل آئی ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں اقتصادی سروے 26-2025 کی کاپی ایوان میں پیش کی۔ اقتصادی سروے حکومت کے ذریعہ پیش کردہ وہ اہم دستاویز ہوتا ہے جس میں ملک کے تقریباً ہر اقتصادی محاذ کا باریکی سے جائزہ لے کر آئندہ سال میں اس کی ترقی اور اس کے تحت آنے والے چیلنجوں کو پیش کیا جاتا ہے۔
Published: undefined
اس اقتصادی سروے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے کئی سخت اقدامات اٹھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اور گیمبلنگ ایپس کو عمر کی تصدیق نافذ کرنے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں ’آٹو-پلے‘ ویڈیو فیچرز اور ’ٹارگیٹڈ ایڈورٹائزنگ‘ کو بچوں اور نوجوانوں کے لیے کنٹرول کرنے کی بات کہی گئی ہے، کیونکہ یہ فیچرز اسکرین ٹائم بڑھانے اور نشے کی لت کا باعث بننے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اقتصادی سروے میں صرف قانونی اقدامات پر ہی نہیں بلکہ معاشرتی تبدیلی پر بھی زور دیا گیا ہے۔ خاندانوں کو اسکرین-ٹائم لمٹ، ڈیوائس-فری آورس (بغیر فون کے وقت) اور مشترکہ آف لائن سرگرمیوں کو فروغ دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
Published: undefined
فی الحال ہندوستان فیس بک (میٹا)، یوٹیوب (الفابیٹ) اور ’ایکس‘ جیسے پلیٹ فارمز کے لیے دنیا کی سب سے بڑی ترقی کی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ حالانکہ ہندوستان میں اب تک سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کوئی یکساں قومی کم از کم عمر مقرر نہیں ہے۔ اقتصادی سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ڈیجیٹل نشہ‘ نہ صرف ذہنی صحت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ یہ پیداواری اور سماجی رویہ میں بھی تبدیلی لا رہی ہے۔ اس کے لیے پلیٹ فارمز کو ’ایج-اپروپریئیٹ ڈیفالٹس‘ اپنانے ہوں گے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ہندوستان میں فی الحال 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو ڈیٹا تحفظ کے قوانین کے تحت ’نابالغ‘ مانا جاتا ہے اور ان کے والدین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، لیکن سوشل میڈیا تک رسائی کے لیے کوئی سخت عمر کی پابندی نہیں ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گووا اور آندھرا پردیش جیسی ریاستیں آسٹریلیا کے ماڈل پر غور کر رہی ہیں۔ گووا کے آئی ٹی وزیر نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ریاستی سطح پر 16 سال سے کم عمر کے بچوں پر پابندیاں عائد کرنے کا امکان تلاش رہے ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ پوری دنیا میں بچوں اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل نشہ اور ذہنی صحت کے مسائل سے بچانے کے لیے سوشل میڈیا پر عمر کی حد نافذ کرنے سے بحث تیز ہو گئی ہے۔ کئی ممالک نے اس سمت میں سخت قانون نافذ کر دیے ہیں یا اس کی طرف قدم اٹھانے کی سمت میں ہیں۔ آسٹریلیا نے دسمبر 2025 میں دنیا کا سب سے سخت قانون نافذ کیا ہے۔ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل طور سے پابندی ہے۔ فرانس اس سمت میں کافی سرگرم ہے اور صدر ایمانویل میکروں اس کے متعلق آواز اٹھا رہے ہیں۔ 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر پابندی عائد کرنے کی تیاری ہے۔
Published: undefined
امریکہ میں کوئی یکساں قومی قانون نہیں ہے، لیکن ریاستی سطح پر سخت قوانین ہیں۔ چلڈرین آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ (سی او پی پی اے) قانون کے تحت وفاقی طور پر 13 سال سے کم عمر کے بچوں کا ڈیٹا بغیر والدین کی اجازت کے نہیں لیا جا سکتا۔ فلوریڈا، یوٹا اور ورجینیا جیسی ریاستوں میں 14 سے 16 سال کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر سخت پابندیاں ہیں۔ یورپی یونین کے دیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) کے تحت بچوں کے تحفظ کو ترجیح دی گئی ہے۔ آفیشل طور پر 16 سال کی سفارش کی گئی ہے، لیکن رکن ممالک کو اسے 13 سے 16 کے درمیان منتخب کرنے کی آزادی ہے۔ اکتوبر 2025 میں پورے یورپی یونین کے لیے کم از کم 16 سال کی عمر کی تجویز گئی ہے۔ ان کے علاوہ ناروے میں کم از کم عمر کی حد کو 13 سے بڑھا کر 15 سال کرنے کی تجویز ہے۔ برطانیہ میں آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت سخت قانون نافذ ہیں، حالانکہ آسٹریلیا جیسی مکمل پابندی نہیں ہے لیکن سیکورٹی کے معیارات کو بہت سخت کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined