
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے سیاسی تناؤ کے درمیان ٹرمپ نے تہران کی مدد کرنے والے ممالک کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو اقتصادی طور پر الگ تھلگ کرنے کے لیے پیر کو ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کا اعلان کیا۔ اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے پٹرولیم اور پٹروکیمیکل مصنوعات درآمد کرنے کے معاملے میں ہندوستان میں واقع 4 کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکہ نے ایران کے لیے آمدنی کے ممکنہ ذرائع کو روکنے کے مقصد سے یہ نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکہ نے دیگر ممالک سے بھی ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات ختم کرنے کو کہا ہے اور ایسا نہ کرنے پر کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ اس مہم کی زد میں آنے والی ہندوستان میں واقع کمپنیوں میں کسٹم ڈیوٹی بروکر پورٹ ایز پارٹنرز ایل ایل پی اور اس کے شراکت دار ادریس میاں اشرف میاں شیخ اور ہریش رام چندر رنگی شامل ہیں۔ ان افراد نے ایران سے پٹروکیمیکل مصنوعات کی کئی کھیپ درآمد کرنے میں مدد کی تھی۔
نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق پابندیوں کے دائرے میں آنے والی دیگر کمپنیوں میں سداشیو اوورسیز لمیٹڈ، پی پی سافٹ ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ اور پرکرتیس انفرا امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔ پی پی سافٹ ٹیک کے ڈائریکٹر پرشانت گرگ بھی کارروائی کی زد میں ہیں۔ بیان کے مطابق شیخ، رنگی اور گرگ تینوں ہندوستانی شہری ہیں۔ سداشیو اوورسیز نے تقریباً 6.9 کروڑ ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جبکہ پی پی سافٹ ٹیک اور پرکرتیس انفرا نے 2.5-2.5 کروڑ ڈالر مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔
ان کمپنیوں کو ایران سے پٹرولیم یا پٹرولیم مصنوعات کی خرید، حصول، فروخت، نقل و حمل یا مارکیٹنگ سے متعلق اہم لین دین میں جان بوجھ کر ملوث ہونے کے الزام میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگاٹ نے بیان میں کہا کہ ’’امریکہ نے ایرانی حکومت کی عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو ممکن بنانے والے متعدد اداروں، افراد اور بحری جہازوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کی ہے۔‘‘
دوسری جانب ایران نے بھی مشرق وسطیٰ میں اپنے پڑوسی ممالک کو وارننگ دی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر اس کے خلاف اقتصادی جنگ میں شامل نہ ہوں۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے رہنما محسن رضائی نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو ایران ایسا کرارا جواب دے گا کہ سب ہل جائیں گے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر پڑوسی ممالک نے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچانے میں امریکہ کی مدد کی تو ایران خلیج فارس سے گزرنے والے بحری جہازوں کے راستوں کو بند کر دے گا یا انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے سخت اور بڑی اقتصادی کارروائی کرنے جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ جو بھی ملک ایران کو کسی بھی طرح کی راحت جیسے تیل کی اسمگلنگ، رقم کی منتقلی یا جعلی کمپنیوں کے ذریعے سہولت فراہم کرے گا، اسے امریکہ کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر نے اسے اقتصادی جنگ قرار دیا اور اپنے اتحادی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران کو مکمل طور پر تنہا کرنے میں امریکہ کا ساتھ دیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔