امریکہ کی ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ہونے والے ملک کو دشمن سمجھے گا ایران: محسن رضائی

محسن رضائی نے خبردار کیا کہ ’’اگر آس پاس کے ممالک امریکہ کی جانب سے عائد اقتصادی محاصرے میں شامل ہوتے ہیں تو ایران ’آبنائے ہرمز‘ سے تیل بھی برآمد نہیں ہونے دے گا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>محسن رضائی، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

ایران کے اعلیٰ سیکورٹی عہدیدار محسن رضائی نے وارننگ دی ہے کہ جو بھی ملک ایران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی جنگ میں شامل ہوگا تہران اسے اپنا ’دشمن‘ سمجھے گا۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری رضائی نے ہفتے کے روز سرکاری ٹی وی چینل ’آئی آر آئی بی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران پہلے ایسے ممالک سے بات چیت کرے گا اور ان سے اس تنازعہ سے دور رہنے کی اپیل کرے گا، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو ایران ان کے مفادات کو نشانہ بنائے گا۔ رضائی نے خبردار کیا کہ اگر آس پاس کے ممالک امریکہ کی جانب سے عائد اقتصادی محاصرے میں شامل ہوتے ہیں تو ایران ’آبنائے ہرمز‘ سے تیل بھی برآمد نہیں ہونے دے گا۔

’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران امریکی پابندیوں سے بچنے اور تیل فروخت کرتے رہنے کے طریقے سیکھ لیے ہیں۔ رضائی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی، جب تک امریکہ جون میں ہوئے ایران-امریکا امن معاہدے کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس بار پہلا قدم واشنگٹن کو ہی اٹھانا ہوگا۔


دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی مہم بھی اس کی سابقہ دباؤ ڈالنے والی پالیسیوں کی طرح ناکام رہے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’14 سال قبل: تاریخ کی سخت ترین پابندیاں ناکام رہیں۔ 8 سال قبل: زیادہ سے زیادہ دباؤ ناکام رہا۔ 5 ماہ قبل: بلاشرط خودسپردگی ناکام رہی۔ آج: اب تک کی سب سے سخت اقتصادی مہم یہ بھی ناکام رہے گی۔‘‘ ’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو اعلان کیا کہ ایران کی مدد کرنے والے کسی بھی ملک کے خلاف ’اب تک کی سب سے سخت اقتصادی مہم‘ چلائی جائے گی۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’’یہ بے مثال سطح کی اقتصادی جنگ اور تنہائی ہوگی۔‘‘