
مہان ایئر، تصویر انسٹاگرام
ایران میں جاری پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے سبب حالات نازک بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہندوستان نے وہاں سے اپنے شہریوں کو نکالنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ’اے بی پی‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایران سے ہندوستانی شہریوں کو لے کر 2 طیارے جمعہ (16 جنوری) کو نئی دہلی پہنچنے والے ہیں۔ پہلی پرواز مہان ایئر کی رات 12.15 بجے پہنچے گی، جبکہ دوسری ایئر عربیہ کی فلائٹ رات 2.40 بجے ہندوستان پہنچے گی۔ تاہم، ان پروازوں کو باقاعدہ کمرشیل فلائٹس ہی قرار دیا گیا ہے۔ ایران میں تشدد اور حالات بگڑنے کے بعد ہندوستان آنے والی یہ پہلی باقاعدہ پروازیں ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے ملک گیر مظاہروں پر تہران کی کارروائی کے جواب میں ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے امکان سے انکار نہیں کیا ہے۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہندوستان نے بدھ کے روز ایران میں مقیم اپنے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ دستیاب ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیں اور ایران کا سفر نہ کریں۔ ایران میں طلبا سمیت تقریباً 10,000 ہندوستانی اس وقت مقیم ہیں۔
Published: undefined
تہران واقع ہندوستانی سفارتخانہ نے 14 جنوری کو طلبا، زائرین، تاجروں اور سیاحوں سمیت تمام ہندوستانی شہریوں سے دستیاب سفری ذرائع کے ذریعے ایران چھوڑنے کی اپیل کی تھی۔ سفارت خانہ نے تمام ہندوستانی شہریوں اور ہندوستانی نژاد افراد سے احتیاط برتنے، مظاہروں والے علاقوں سے دور رہنے اور سفارت خانہ کے ساتھ رابطہ میں رہنے کی بھی درخواست کی تھی۔
Published: undefined
واضح رہے کہ امریکہ نے جمعرات (15 جنوری) کو ایران پر نئے سرے سے پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے مظاہروں کو کچلنے کے الزام میں ایرانی حکام کے ساتھ ساتھ ایرانی شپنگ، ٹریڈنگ اور توانائی کمپنیوں پر نئی پابندیاں لگائی ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی 18 اہلکاروں پر امریکہ نے کارروائی کی ہے، جن پر مظاہرین کے خلاف سختی اور تشدد کے الزامات ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اہلکار تیل اور پیٹروکیمیکل کی آمدنی کو خفیہ طور پر بیرون ملک منتقل کرنے اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ آزادی اور انصاف کا مطالبہ کرنے والی ایرانی عوام کے ساتھ ہم مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز