
گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia
ہندوستان نے روس سے تیل کی خریداری کم کر دی ہے، اور یہ حالات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ روس سے تیل نہ خریدنے کی دھمکی دیے جانے کے بعد دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس تعلق سے کانگریس لگاتار وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اب پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سکورسکی نے ایسا بیان دیا ہے، جس کے بعد کانگریس مودی حکومت پر حملہ آور دکھائی دے رہی ہے۔
دراصل ایک تقریب کے دوران پولینڈ کے وزیر خارجہ سکورسکی نے کہا کہ ’’مجھے اطمینان ہے کہ ہندوستان نے روس سے تیل لینا کم کر دیا ہے۔‘‘ اس بیان کی ویڈیو کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’پولینڈ کے وزیر خارجہ نے یہ بات ہندوستان ہندوستانی وزیر خارجہ ایس. جئے شنکر کے سامنے کہی ہے۔ اس بیان سے صاف ہے کہ مودی نے ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے روس سے تیل لینا بند کیا۔‘‘
کانگریس نے مودی حکومت پر پہلے ہی یہ الزام عائد کیا تھا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب ڈونالڈ ٹرمپ کی خواہشوں کے مطابق طے ہوتی ہے۔ اب رادوسلاو سکورسکی کے بیان نے کانگریس کو مزید حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں پارٹی نے واضح لفظوں میں الزام عائد کیا ہے کہ ’’اب ہندوستان کی خارجہ پالیسی وہائٹ ہاؤس سے طے ہو رہی ہے۔ شرمناک۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔