
علامتی تصویر / سوشل میڈیا
حمل کے دوران پیراسیٹامول کے استعمال کے متعلق ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے۔ ایک نئی بین الاقوامی تحقیق کے مطابق دورانِ حمل پیراسیٹامول لینے سے بچوں میں آٹزم، اے ڈی ایچ ڈی یا نشوونما سے متعلق کسی بھی قسم کے مسائل کا خطرہ نہیں بڑھتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین کو اس حوالے سے مطمئن رہنا چاہیے۔ یہ رپورٹ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کچھ سال قبل دیے گئے متنازعہ بیانوں سے بالکل برعکس ہے، جن میں انہوں نے پیراسیٹامول کو اچھا نہیں بتایا تھا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ گزشتہ سال امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ دورانِ حمل پیراسیٹامول (امریکہ میں جسے ایسیٹامنفین یا ٹائلینول کہا جاتا ہے) کا استعمال کرنے سے بچوں میں آٹزم ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا تھا کہ حاملہ خواتین کو یہ دوا لینے سے بچنا چاہیے۔ ان کے بیانوں پر پوری دنیا میں ڈاکٹروں اور طبی تنظیموں کی جانب سے تنقید کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے خواتین میں بے وجہ ڈر پھیلا اور اسی وہم کو دور کرنے کے لیے یہ نئی تحقیق ضروری ہو گئی۔
Published: undefined
یہ نئی تحقیق معروف طبی جریدے ’دی لینسٹ‘ میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں دورانِ حمل پیراسیٹامول کے استعمال سے متعلق 43 بڑے اور قابل اعتماد مطالعے شامل تھے۔ ان مطالعوں میں لاکھوں خواتین اور ان کے بچوں کے اعداد و شمار دیکھے گئے۔ خاص بات یہ رہی کہ تحقیق کے دوران ایسے معاملوں کا موازنہ کیا گیا، جہاں ایک ہی خاندان میں ایک حمل کے دوران دوا لی گئی اور دوسری میں نہیں۔ اس سے جینز، خاندانی ماحول اور دیگر وجوہات کا اثر تقریباً ختم ہو گیا۔ مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ پیراسیٹامول اور آٹیزم کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا۔ کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ دوا خطرہ میں اضافہ کرتی ہے۔ صحیح مقدار اور ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق لیا گیا پیراسیٹامول دوران حمل محفوظ ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ڈاکٹروں نے یہ بھی وارننگ دی ہے کہ دورانِ حمل تیز بخار یا درد کو نظر انداز کرنا زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر بخار کم نہیں کیا گی تو اس سے اسقاطِ حمل، قبل از وقت ڈیلیوری یا بچہ کے نشو نما پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے پوری دنیا میں پیراسیٹامول کو حمل کے دوران خواتین کے لیے سب سے محفوظ درد اور بخار کی دوا مانی جاتی ہے۔ حالانکہ گزشتہ سال ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک مطالعہ میں طویل مدت تک اور زیادہ مقدار میں پیراسیٹامول لینے کے متعلق احتیاط برتنے کی بات کہی گئی تھی۔ لیکن نئے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پہلے کی کئی رپورٹس میں دیگر وجوہات کو ٹھیک سے نہیں دیکھا گیا، جس کی وجہ سے غلط نتیجے نکلے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined