خبریں

ہندوستان-کمبوڈیا افواج کی مشترکہ مشق جاری، اقوام متحدہ کے ’امن مشن‘ اور دہشت گردی کے خاتمے پر توجہ

ہندوستانی فوج اور کمبوڈین فوج کے درمیان جاری یہ مشق صرف فوجی تربیت تک محدود نہیں ہے، بلکہ اسے دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;<a href="https://x.com/adgpi">@adgpi</a></p></div>

تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @adgpi

 

ہندوستانی فوج اور رائل کمبوڈین آرمی کے جوانوں نے ڈرون، اسنائپر، شہری جنگ اور آفات کے دوران امدادی کارروائیوں کی مشترکہ مشقیں کی ہیں۔ یہ مشقیں کمبوڈیا میں زور و شور سے سے جاری ہیں اور 4 مئی سے 17 مئی 2026 تک کمبوڈیا کے ’کیمپ بیسل‘ میں واقع ’ٹیکنو سین نوم تھوم مریاس پرو رائل کمبوڈین ایئر فورس ٹریننگ سنٹر‘ میں جاری رہیں گی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ اس مشق میں ہندوستانی فوج کی جانب سے تقریباً 120 جوان حصہ لے رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر فوجی ’مراٹھا لائٹ انفنٹری رجمنٹ‘ سے ہیں۔ وہیں رائل کمبوڈین آرمی کے 160 فوجی بھی اس میں شریک ہیں۔ اقوام متحدہ کے ’چیپٹر 8 مینڈیٹ‘ کے تحت منعقدہ یہ مشق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور امن کے قیام کے مشنوں پر مرکوز ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دونوں افواج کے درمیان تال میل، ہم آہنگی اور مشترکہ آپریشن کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

Published: undefined

مشق کے دوران دونوں ممالک کے فوجی کمانڈ پوسٹ ایکسرسائز، فیلڈ ٹریننگ اور خصوصی فوجی مہارتوں پر مبنی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس میں فائرنگ ڈرل، شہری جنگ، ڈرون آپریشن، مارٹر مشق، اسنائپر ٹریننگ، کامبیٹ فرسٹ ایڈ اور آفات کے دوران امدادی کارروائیاں شامل ہیں۔ فوجیوں کو نئی نسل کے ہتھیاروں، ڈرونز اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (یو اے ایس) کے استعمال کی بھی تربیت دی جا رہی ہے، تاکہ پیچیدہ اور نیم شہری حالات میں مشترکہ آپریشن کی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی فوج اور کمبوڈین فوج کے درمیان یہ مشق صرف فوجی تربیت تک محدود نہیں ہے، بلکہ اسے دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔ اس مشق سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات مضبوط ہوں گے، ثقافتی ہم آہنگی بڑھے گی اور علاقائی و عالمی سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی مشترکہ تیاری کو مضبوطی ملے گی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined