ایل پی جی ڈلیوری کے نام پر سائبر دھوکہ دہی، تیل کمپنیوں کی او ٹی پی شیئر نہ کرنے کی اپیل
سرکاری تیل کمپنیوں نے ایل پی جی ڈلیوری کے نام پر بڑھتی سائبر دھوکہ دہی سے خبردار کیا ہے۔ جعلساز او ٹی پی اور ڈلیوری کوڈ حاصل کر کے صارفین کو مالی نقصان پہنچا رہے ہیں

نئی دہلی: سرکاری تیل کمپنیوں نے ملک میں ایل پی جی ڈلیوری سے جڑی بڑھتی سائبر دھوکہ دہی پر صارفین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلساز گیس ایجنسی یا ڈلیوری اہلکار بن کر لوگوں سے او ٹی پی اور ڈلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کمپنیوں کے مطابق یہ فراڈ زیادہ تر فرضی ایس ایم ایس، واٹس ایپ پیغامات اور فون کالز کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔
ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ، انڈین آئل کارپوریشن اور بھارت پٹرولیم نے سوشل میڈیا پر الگ الگ پیغامات جاری کرتے ہوئے صارفین سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔ کمپنیوں نے بتایا کہ دھوکہ باز ایل پی جی سلنڈر ڈلیوری سے متعلق اصلی پیغامات کی نقل تیار کرتے ہیں اور صارفین کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کا گیس کنکشن بند ہونے والا ہے یا کے وائی سی اور آدھار لنکنگ ضروری ہے۔ اس بہانے صارفین سے او ٹی پی یا ڈلیوری کوڈ مانگا جاتا ہے۔
کمپنیوں کے مطابق کئی معاملات میں جعلساز خود کو گیس ایجنسی کا افسر یا ڈلیوری اہلکار ظاہر کرتے ہیں اور فوری کارروائی کا دباؤ بنا کر صارفین سے خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صارفین کے ذریعے او ٹی پی یا کوڈ شیئر کرتے ہی ان کے ساتھ مالی دھوکہ دہی کی واردات انجام دی جاتی ہے۔
ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ نے واضح کیا کہ اس کی طرف سے بھیجا جانے والا سرکاری ڈلیوری پیغام صرف ’وی ایم-ایچ پی گیس ایس سی-ایس‘ نام سے آتا ہے، جس میں چار ہندسوں کا او ٹی پی درج ہوتا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ اس کا کوئی نمائندہ فون کال، واٹس ایپ یا کسی مشتبہ لنک کے ذریعے او ٹی پی طلب نہیں کرتا۔ اگر کوئی پیغام غیر معمولی، مشتبہ یا ضرورت سے زیادہ فوری محسوس ہو تو اس پر ہرگز اعتماد نہ کیا جائے۔
اسی طرح انڈین آئل کارپوریشن نے صارفین کو ہدایت دی کہ وہ چھ ہندسوں والا ڈلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ صرف اسی وقت شیئر کریں جب انڈین گیس کا ڈلیوری اہلکار ان کے دروازے پر موجود ہو۔ بھارت پٹرولیم نے بھی صارفین کو تاکید کی کہ او ٹی پی صرف سلنڈر کی حقیقی ڈلیوری کے وقت ہی بتایا جائے۔
تیل کمپنیوں نے کہا کہ صارفین گیس سلنڈر کی بکنگ، کے وائی سی اپ ڈیٹ یا دیگر خدمات کے لیے صرف سرکاری ایپلی کیشنز جیسے انڈین آئل ون، ایچ پی پے اور ہیلو بھارت پٹرولیم کا استعمال کریں۔ کمپنیوں نے ذاتی موبائل نمبروں یا واٹس ایپ سے آنے والے مشتبہ پیغامات سے محتاط رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔
کمپنیوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی صارف غلطی سے اپنی معلومات شیئر کر بیٹھے یا مالی دھوکہ دہی کا شکار ہو جائے تو وہ فوری طور پر قومی سائبر جرائم ہیلپ لائن 1930 پر رابطہ کرے تاکہ وقت رہتے رقم کو منجمد کرانے میں مدد مل سکے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
