
امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے 30 سے زائد مقامات پر حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی حملے شروع کر دیے ہیں۔ اس کے بعد انڈیگو اور ایئر انڈیا نے اپنی جانب سے بیان جاری کیا ہے۔ انڈیگو نے ایک ٹریول ایڈوائزی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران اور اس کی فضائی حدود کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایئرلائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے مسافروں اور عملے کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے اور اس کی ٹیمیں حالات کے مطابق ضروری آپریشنل تبدیلیاں کرنے کے لیے تیار ہیں۔
Published: undefined
انڈیگو نے مسافروں کو سفر سے قبل اپنی پرواز کی صورتحال چیک کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ آپریشنز پر کسی بھی قسم کے اثرات کی صورت میں، رجسٹرڈ رابطہ تفصیلات کے ذریعے فوری اطلاع دے دی جائے گی۔ حالانکہ ایئرلائن نے اب تک کسی مخصوص پرواز کی منسوخی یا روٹ کی تبدیلی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے، لیکن اس طرح کی ایڈوائزری عموماً اس وقت جاری کی جاتی ہے جب ایئرلائنز ممکنہ فضائی حدود کے بند ہونے، روٹ کی تبدیلی کی ضرورت یا علاقے میں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہوتی ہیں۔
Published: undefined
ایئرلائن کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران مسافروں کی مدد کے لیے پوری طرح تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر مسلسل معلومات فراہم کرتی رہے گی۔ بین الاقوامی روٹس پر اڑان بھرنے والی ایئرلائنز اکثر سرکاری ہدایات اور خطرات کے جائزے کی بنیاد پر فضائی حدود کی بندش یا حفاظتی ایڈوائزری ملنے پر اپنی پروازوں کے روٹ یا وقت میں تبدیلیاں کرتی ہیں۔
Published: undefined
انڈیگو کے علاوہ ملک کی دوسری بڑی ایئرلائن نے بھی اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایئر انڈیا کے ترجمان کے مطابق 28 فروری کو دہلی سے تل ابیب جانے والی پرواز، اسرائیل میں فضائی حدود بند ہونے اور مسافروں و عملے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان واپس لوٹ رہی ہے۔ ایئر انڈیا نے اس اچانک پیدا ہونے والی صورتحال سے مسافروں کو ہونے والی تکلیف پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ حفاظت کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ایئر لائن نے مزید کہا کہ وہ اپنی پروازوں کے آپریشن کے لیے سیکورٹی کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیتی رہے گی اور ضرورت پڑنے پر بروقت تبدیلیاں کرے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined