
جئے رام رمیش / آئی اے این ایس
امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر کیے جا رہے مستقل حملوں کی آگ کئی ممالک تک پہنچ چکی ہے۔ ایران کی جوابی کارروائی سے امریکہ و اسرائیل کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس سے دونوں ممالک میں زبردست غصہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ غالباً اسی غصہ کا نتیجہ تھا کہ 4 مارچ کو امریکہ نے ایران کے اُس جنگی جہاز کو آبدوز سے حملہ کر سمندر میں غرق کر دیا، جو ہندوستان میں ’میلان ایکسرسائز‘ میں شرکت کے بعد وطن واپس لوٹ رہا تھا۔ اس واقعہ میں ایران کے 87 بحری فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور درجنوں فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
Published: undefined
اس واقعہ پر ابھی تک ہندوستانی حکومت کی جانب سے کوئی آفیشیل رد عمل سامنے نہیں آیا ہے، جس نے کانگریس کو حیران کر دیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے کہا ہے کہ ہندوستان سے واپس ایران لوٹ رہے جنگی جہاز پر امریکی حملہ کے بعد ضروری تھا کہ حکومت ہند اپنا موقف پیش کرتی، لیکن اس نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ انھوں نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حکومت ہند اتنی ڈرپوک اور خوفزدہ پہلے کبھی نظر نہیں آئی۔
Published: undefined
اس بارے میں جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’ہندوستانی بحریہ کا اہم کثیر فریقی ایکسرسائز ’میلان‘ پہلی بار 1995 میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس کا تیرہواں ایڈیشن 19 فروری سے 25 فروری 2026 تک وشاکھاپٹنم میں منعقد ہوا، جس میں امریکہ اور ایران سمیت دیگر ممالک کے 18 جنگی جہازوں نے حصہ لیا۔ اس ایکسرسائز کا افتتاح وزیر دفاع نے کیا تھا۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’ایسے میں کل سری لنکا کے گالے سے تقریباً 40 ناٹیکل میل جنوب میں بحر ہند میں امریکی بحریہ کے ایک آبدوز کے ذریعہ اُس ایرانی جنگی جہاز کو غرق کر دینا، جس نے میلان ایکسرسائز میں حصہ لیا تھا، واقعہ کو مزید غیر معمولی بنا دیتا ہے۔ یہ ایرانی جنگی جہاز اپنے وطن واپس لوٹ رہا تھا۔‘‘
Published: undefined
جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ایرانی جنگی جہاز پر حملہ سے متعلق امریکی کارروائی کے ہندوستان کے لیے بھی اہم مضمرات ہیں، اور یہ حیران کرنے والی بات ہے کہ اب تک اس پر کوئی آفیشیل رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’شاید یہ حیران ہونے والی بات بھی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ مودی حکومت نے ایران میں ہوئے ٹارگیٹیڈ قتل پر بھی اب تک اپنی خاموشی نہیں توڑی ہے۔ اس سے قبل کبھی ہندوستانی حکومت اتنی ڈرپوک اور خوفزدہ نظر نہیں آئی تھی۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined