خبریں

امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے ہندوستان کا انکار! امریکہ کو تجارتی معاہدے کے لیے کرنا ہوگا انتظار

امریکہ مکئی اور سویابین جیسے زرعی مصنوعات پر کم ٹیرف کا مطالبہ کر رہا ہے۔ حکومت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا جس سے ملک کے 140 کروڑ لوگوں اور کسانوں کا نقصان ہو۔

<div class="paragraphs"><p>ہندوستان-امریکہ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

ہندوستان-امریکہ، تصویر آئی اے این ایس

 

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی معاہدے میں ایک بڑی رکاوٹ آ گئی ہے۔ امریکہ اپنی طرف سے ہندوستان میں مکئی اور سویابین جیسے زرعی مصنوعات پر کم ٹیرف کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ہندوستانی حکومت اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ حکومت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، جس سے ملک کے 140 کروڑ لوگوں اور کسانوں کا نقصان ہو۔ اس کے علاوہ جینیٹیکل ماڈیفائیڈ فوڈ کے سلسلے میں بھی ہندوستان میں صحت سے متعلق خدشات ہیں۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر 9 جولائی تک کوئی محدود معاہدہ نہیں ہوا تو ہندوستانی صنعتوں کو امریکہ میں 26 فیصد ٹیکس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Published: undefined

واضح ہو کہ امریکہ نے ہندوستان کو 10 فیصد کا بیس لائن ٹیرف آفر کیا ہے، لیکن ہندوستان اسے کافی نہیں سمجھتا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرف تمام ممالک کے لیے مساوی ہے، اس میں ہندوستان کے لیے کوئی خاص سہولت نہیں ہے۔ ہندوستان چاہتا تھا کہ ٹیکسٹائل، چمڑے کے سامان، ادویات، انجنیئرنگ پراڈکٹس اور آٹو پارٹس جیسے کچھ خاص سامانوں پر امریکہ زیرو ٹیرف ملے۔ لیکن امریکی افسران نے صاف کر دیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ابھی زیرو ٹیرف دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہندوستانی حکومت کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ امریکہ سے سستے زرعی مصنوعات درآمد کرنے سے ہندوستانی کسانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

Published: undefined

ہندوستانی حکومت خاص طور سے مکئی اور سویابین جیسے جی ایم مصنوعات کو لیکر کافی سخت ہے۔ امریکہ ان مصنوعات کو نان-جی ایم سرٹیفیکیٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے مشورہ دیا کہ کچھ مکئی کو اتھینال میں پراسیس کر کے بلینڈنگ پروگرام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ ہندوستان کی بلینڈنگ کی حد پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔ سویابین میں بھی یہی دقت ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ اسے تیل میں پراسیس کیا جائے، لیکن ہندوستان میں ایسا کرنے سے جی ایم مصنوعات ہندوستانی بازار میں آ سکتے ہیں۔ ہندوستانی قوانین کے مطابق جی ایم فوڈ کو منظوری نہیں ہے اور اس کے حوالے سے لوگوں میں صحت سے متعلق خدشات ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ اپنی گاڑیوں اور کچھ دیگر مصنوعات پر بھی کم ٹیرف چاہتا ہے، جسے ہندوستان قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined