
ہندوستان-امریکہ، تصویر آئی اے این ایس
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے طویل عرصے سے تعطل کے شکار ہیں۔ ایسے میں اب نیا معاملہ اس تنازعہ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اسی کی وجہ امریکہ کی دالوں پر ہندوستان کی جانب سے عائد کی گئی امپورٹ ڈیوٹی (درآمدی محصول) ہے۔ امریکی سینیٹر نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر اس 30 فیصد ڈیوٹی کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان پر اسے ہٹانے کو لے کر دباؤ بنانے کی درخواست بھی کی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے عائد کردہ اس امپورٹ ڈیوٹی کو ٹرمپ کے ذریعہ لگائے گئے 50 ٹیرف کا جواب مانا جا رہا ہے۔ اب ایسے میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدہ پر بات چیت مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
Published: undefined
نارتھ ڈکوٹا کے سینیٹر کیون کریمر اور مونٹانا کے اسٹیو ڈینس نے بتایا کہ ہندوستان نے گزشتہ سال 30 اکتوبر کو امریکی پیلی مٹر پر 30 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جو یکم نومبر سے نافذ ہو گیا تھا۔ اس فیصلے پر توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی ہندوستانی حکومت نے اس کے متعلق تشہیر کی۔ ہندوستان کے اس قدم کو خاموش جوابی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ 16 جنوری کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے 30 اکتوبر 2025 کو اعلان کیا تھا کہ وہ امریکہ سے درآمد کی جانے والی مٹر پر 30 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ یہ ٹیرف یکم نومبر سے نافذ ہو گیا ہے۔ ہندوستان کی جانب عائد کیے گئے غیرمناسب ٹیرف کی وجہ سے امریکی دال پیدا کرنے والوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
Published: undefined
خط میں لکھا ہے کہ یہ معاملہ ڈیکوٹا اور مونٹانا جیسی زرعی ریاستوں کے لیے اہم ہے۔ امریکہ میں مٹر اور دالوں کی پیداوار ان ریاستوں میں زیادہ ہوتی ہیں۔ ہندوستان دنیا میں دالوں کا سب سے بڑا صارف ہے۔ دنیا کی کھپت کے مقابلے تقریباً 27 فیصد ہے۔ سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ کھائی جانی والی دالیں مسور، چنا، سوکھی پھلیاں اور مٹر ہیں۔ انہوں نے امریکی دالوں پر کافی ٹیرف عائد کیا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ کا معاملہ تعطل کا شکار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہے زراعت اور ڈیری مصنوعات، جو ہندوستان کے لیے ریڈ لائنس ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستانی کسان ایک ریڈ لائن ہے، اگر کوئی تجارتی معاہدہ گھریلو مصنوعات کی قیمت پر ہندوستان کے دال بازار کھولنے کا مطالبہ کرتا ہے تو تجارتی معاہدہ نہیں ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined