خبریں

پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مشرق وسطی کے اہم دورے

کیا پاکستان مشرق وسطی کے مسائل کے حل کے لیے ایک ثالث کا کرادر ادا کر رہا ہے؟ 

 پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مشرق وسطی کے اہم دورے
 پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مشرق وسطی کے اہم دورے 

وزیراعظم عمران خان بحرین کے دورے پر پہنچے ہیں، جہاں ان کا استقبال شاہ حماد بن عیسی بن سلمان الخلیفہ نے کیا۔ وہ بحرین کے قومی دن پر بطور مہمان خصوصی شرکت کے لیے گیے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کو بحرین کا اعلٰی ترین سول ایوارڈ بھی دیا جائے گا۔

Published: undefined

وزیراعظم عمران خان اس دورے کے دوران اپنے وفد کے ہمراہ بحرین کے شاہ حماد بن عیسی سے خصوصی دو طرفہ امور پر بات چیت کریں گے۔ اس موقع پر دونوں مما لک کے اعلی سطحی وفود کے درمیان سیاسی، تجارتی، علاقائی اور بین الاقوامی معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ گو وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بحرین کا یہ پہلا دورہ ہے لیکن اس سے قبل وہ سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ ہفتے کے روز ان کی ملاقات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ہوئی تھی۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اسے معمول کا ایک دورہ قرار دیا۔

Published: undefined

مشرق وسطی اور پاکستان کی تزویراتی اور جغرافیائی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیراعظم کے حالیہ دورے قابل ذکر ہیں۔ وزیراعظم نے رواں سال میں مشرق وسطی کے کئی ممالک کے دورے کیے، جن میں ایران، سعودی عرب، ترکی اور ملائیشیا شامل ہیں۔ سعودی عرب کا ان کا یہ چوتھا دورہ تھا۔ اکتوبر کے مہینے میں دورہ ایران کے دو دن بعد وہ سعودی عرب گئے تھے ۔ ایران کے دورے میں ان کی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی اور ایرانی صدر حسن روحانی سے بات چیت ہوئی تھی۔

Published: undefined

اُس وقت سعودی عرب اور ایران کے بیچ سعودی آئل ریفائنری پر حملے کے بعد تعلقات کشیدہ تھے اور امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو اس حملے پر ذمہ دار ٹھہرا کر معاشی پابندیوں کی بات کی تھی۔ اس دوران یہ باز گشت بھی سنائی دی کہ پاکستان، ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو معمول کی سطح پر لانے کی کوششں کر رہا ہے اور عمران خان مسلم ممالک کے سربراہان کو اس خطے کی معاشی ترقی اور سلامتی کے ایجنڈے پر اکٹھا کرنے کے خواہاں بھی ہیں۔

Published: undefined

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مشرق وسطی کے مسلسل دوروں کی اہمیت پر سینئر تجزیہ نگار اور مصنف امتیاز گل نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات کی ان کا کہنا تھا،'' کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ جب بھی دوسرے ممالک کے درمیان مسئلہ ہوتا ہے پاکستان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایک پل کا کردار ادا کرے۔ معاملات اگر سنوارے نہ بھی جا سکیں لیکن کم از کم پاکستان کی کوششوں سے مسلم ممالک کے تعلقات میں ٹھہراؤ ضرور آجاتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کی بہتری کے لیے وزیراعظم نے پہلے بھی کوششیں کی تھیں۔ اس دوران پاکستان ایک بیلینسنگ فیکٹر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حالیہ دورے میں بھی ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو ملائیشیا کی کانفرنس میں شرکت پر آمادہ کر لیا ہو۔‘‘

Published: undefined

اس سوال پر کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کے دورے پر سعودی عرب میں دو ہزار پاکستانی قیدیوں کی رہائی کی بات کی تھی لیکن ابھی تک دو ہزار قیدیوں میں سے ایک سو سے بھی کم قیدیوں کی رہائی ممکن ہو سکی اور ماضی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ محمد بن سلمان ایران کے ساتھ تصفیے اور پاکستان، ترکی اور ملائیشیا کے مشترکہ چینل کھولنے پر ناراض ہیں۔

Published: undefined

اس کے جواب میں امتیاز گل کا کہنا تھا،'' تمام نہیں لیکن کچھ قیدی تو رہا ہوئے ہیں۔ صرف عمران خان کے کہنے پر سعودی عرب کے نظام کو تلپٹ نہیں کیا جا سکتا۔ آج کا سعودی عرب ایک مختلف سعودی عرب ہے۔ موجودہ ولی عہد نے اس سعودی عرب کو ایک نئی جہت پر ڈالا ہے۔ اب خواتین کو وہ حقوق دیے جا ریے ہیں جو پہلے ان کے پاس نہیں تھے۔ ثقافتی اور معاشرتی سطح پر لوگوں کو آزادی ملی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ نئی سوچ رکھنے والے رہنما ایسی کسی بات پر ناراض ہوں گے۔ سابقہ سعودی حکمرانوں کے تعلقات امریکا سے بہت گہرے تھے۔ موجودہ ولی عہد کے امریکا سے تعلقات اقتصادی بنیادوں پر مبنی ہیں۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا، ایران، بحرین اور دیگر مسلمان ملک غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ مسلم ممالک پاکستان کی مالی مدد میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس بار بھی پاکستان کو ان ہی عرب مسلم ممالک نے مالی امداد فراہم کی ہے۔ پاکستان خطے کی ایک اہم ضرورت ہے اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined