خبریں

عازمین حج اب نہیں لا سکیں گے ’آبِ زمزم‘، سعودی حکومت نے لگائی پابندی

جاری نوٹیفکیشن میں ایئرلائن کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آبِ زمزم پر پابندی کے فیصلے پر سختی سے عمل کریں، ایسا نہیں ہونے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

آبِ زمزم پیتے ہوئے ایک عازم حج
آبِ زمزم پیتے ہوئے ایک عازم حج 

آبِ زمزم کی اہمیت سے تو ہم سبھی واقف ہیں اور ایسے افراد جو حج پر نہیں جا پاتے، وہ عازمین حج سے درخواست کرتے ہیں کہ آبِ زمزم یعنی زمزم کا پانی اپنے ساتھ ضرور لائیں۔ لیکن اب ایسی درخواستیں آپ نہیں کر پائیں گے کیونکہ سعودی حکومت نے آبِ زمزم لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بدھ کے روز سعودی حکومت کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عازمین حج کے سامان میں آبِ زمزم شامل نہیں ہوگا۔ حالانکہ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ کیوں لیا گیا ہے۔

Published: undefined

میڈیا رپورٹس کے مطابق جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس میں ایئرلائن کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آبِ زمزم پر پابندی کے فیصلے پر سختی سے عمل کریں۔ ایسا نہیں ہونے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ پہلے ہر عازمین حج کو 10 لیٹر آبِ زمزم لانے کی اجازت تھی۔ بعد میں سعودی حکومت نے اسے گھٹا کر 5 لیٹر کر دیا، لیکن اب اس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

Published: undefined

سعودی جنرل ایویشن اتھارٹی (ایس جی اے اے) نے اس سلسلے میں جو آفیشیل نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ عقیدتمند اور مسافر ایئرپورٹ سے روانہ ہوتے وقت چیک اِن سامان میں یہ پاکیزہ پانی نہیں لے جا سکیں گے۔ اس حکم پر ایگزیکٹیو وائس پریسیڈنٹ فار اکونومک پالیسیز اینڈ انٹرنیشنل کو آپریشن کے دستخط ہیں۔ اس حکم پر سبھی کمرشیل اور پرائیویٹ ایئرلائنس کمپنیوں کو عمل کرنا ہوگا۔ حکم کے مطابق سامان میں کسی بھی طرح کا لیکوئڈ (آبِ زمزم سمیت) نہیں لے جایا جا سکے گا۔

Published: undefined

نوٹیفکیشن کے مطابق جدہ اور سعودی عرب کے تمام ائیرپورٹس پر موجود اسٹاف اس بات کی سختی سے جانچ کریں گے کہ کسی مسافر کے سامان میں آبِ زمزم کی بوتل تو نہیں ہے۔ ایئرلائنس کو اس بارے میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پراسیجرس یعنی ایس او پیز جاری کر دیے گئے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined