
تصویر/آئی اے این ایس
یوکرین کی اوڈیسا بندرگاہ پر 4 ہندوستانی شہریوں کو لے جا رہے ایک تجارتی جہاز پر حملہ کیا گیا۔ کیف میں موجود ہندوستانی سفارت خانے کے آفیشیل بیان کے مطابق عملے کے 2 ہندوستانی ارکان محفوظ ہیں، جبکہ دیگر 2 کے بارے میں ابھی معلومات کا انتظار ہے۔ سفارت خانے کے بیان کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کے روز پیش آیا، جب ’ایم وی اے جی این راگنار‘ پر اوڈیسا بندرگاہ میں حملہ ہوا۔ اوڈیسا یوکرین کی بحیرہ اسود کی اہم بندرگاہوں میں سے ایک ہے، جس پر 2022 میں روس۔یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد متعدد بار حملے ہو چکے ہیں۔ ہندوستانی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ تازہ ترین واقعہ اوڈیسا بندرگاہ پر روسی حملے میں 4 ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت کے چند روز بعد پیش آیا ہے۔ اس حملے کے بعد ہندوستان نے روس کے اعلیٰ ترین سفارت کار کو طلب کر کے سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندوستان نے بحیرہ اسود میں کام کرنے والے تجارتی جہازوں پر تعینات اپنے شہریوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ’’ان علاقوں میں چلنے والے یا یہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو سیکورٹی کے سنگین خطرات لاحق ہیں، جن میں میزائل اور ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔‘‘
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اپریل سے تجارتی جہازوں پر ایسے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں اب تک 5 ہندوستانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ جو ملاح اس علاقے میں کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے اور دیگر ضروری حفاظتی اقدامات بھی اختیار کرنے چاہییں۔ ان میں اپنے آجر، بھرتی کرنے والی ایجنسیوں اور جہاز چلانے والی کمپنیوں سے جہاز کے مجوزہ روٹ، راستے میں آنے والی بندرگاہوں، سیکورٹی انتظامات، انشورنس کوریج اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقۂ کار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا شامل ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔