بہار: سیلاب کے باعث 14 اضلاع کے 40 لاکھ سے زائد افراد متاثر، بارش کے باعث ندیاں اور برساتی نالے طغیانی پر ہیں
ایک افسر نے بدھ کو بتایا کہ مسلسل بارش کی وجہ سے ندیاں اور برساتی نالے طغیانی پر ہیں۔ نیپال میں ہوئی شدید بارش کے سبب کئی ندیاں مختلف جگہوں پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔

بہار میں گزشتہ 4 سے 5 دنوں سے ہو رہی موسلادھار بارش اور نیپال کے آبی جماؤ والے علاقوں میں شدید بارش کے باعث 14 اضلاع میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق ریاست میں 40.21 لاکھ سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہیں۔ ایک افسر نے بدھ کو بتایا کہ مسلسل بارش کی وجہ سے ندیاں اور برساتی نالے طغیانی پر ہیں۔ نیپال میں ہوئی شدید بارش کے سبب کئی ندیاں مختلف جگہوں پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پٹنہ، بھوجپور، سارن، ویشالی، بھاگلپور، بیگوسرائے، بکسر، سمستی پور، مونگیر، کٹیہار، لکھی سرائے، کھگڑیا، پورنیہ اور ارول اضلاع کے 84 بلاکوں کی 514 گرام پنچایتوں کے تقریباً 40.21 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہیں۔ محکمہ کے تازہ ترین بلیٹن کے مطابق بھاگلپور کے سلطان گنج میں بدھ کی صبح 9 بجے گنگا کی سطح آب 36.78 میٹر درج کی گئی، جو 17 اگست 2021 کو ریکارڈ کی گئی 36.75 میٹر کی گزشتہ بلند ترین سیلابی سطح (ایچ ایف ایل) سے زیادہ ہے۔ حالانکہ سطح آب فی الحال مستحکم بنی ہوئی ہے۔ گنڈک، کوسی، بوڑھی گنڈک، گنگا، پنپن، باگمتی اور گھاگھرا سمیت کئی ندیاں مختلف مقامات پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔
ڈمریا گھاٹ میں گنڈک، بلترا اور کُرسیلا میں کوسی، کھگڑیا میں بوڑھی گنڈک، دیگھا، گاندھی گھاٹ، ہاتھیدہ، بھاگلپور، کہلگاؤں اور مونگیر میں گنگا، سری پال پور میں پُنپن، بینی باد میں باگمتی و درولی اور گنگ پور سسون میں گھاگرا ندیوں کی کی سطح آب خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے ریاست کے مختلف اضلاع میں 723 کمیونٹی کچن چلائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 15 امدادی کیمپوں میں 13446 بے گھر لوگوں کے ٹھہرنے، کھانے، علاج اور دیگر ضروری سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ بلیٹن کے مطابق اب تک 1.94 لاکھ پولی تھین شیٹ اور تقریباً 29400 خشک راشن کے پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ متاثرین کو نکالنے اور آمد و رفت کے لیے 1979 کشتیاں لگائی گئی ہیں اور 5178 کوئنٹل مویشیوں کا چارہ بھی تقسیم کیا گیا ہے۔
اہم بیراجوں سے پانی کے اخراج کی صورتحال کے بارے میں محکمہ نے بتایا کہ بدھ کی صبح 10 بجے گنڈک بیراج سے 86000 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا تھا اور صورتحال مستحکم تھی۔ رواں سال گنڈک بیراج سے پانی کا زیادہ سے زیادہ بہاؤ 14 جولائی کو 2.24 لاکھ کیوسک درج کیا گیا تھا۔ کوسی بیراج سے 148200 کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اندرپوری بیراج (سون ندی) سے 80785 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا تھا اور وہاں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ رواں سال اندرپوری بیراج سے سب سے زیادہ 563654 کیوسک پانی 2 ستمبر کو چھوڑا گیا تھا۔ راحت اور بچاؤ کے کاموں کے لیے ریاست کے مختلف اضلاع میں ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی 27 اور قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی 10 ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
