خبریں

دفاع، جوہری توانائی اور اے آئی شعبہ میں ہندوستان و امریکہ کے درمیان بڑا معاہدہ، معیشت کو ملے گی رفتار

سینئر امریکی عہدیدار ایس پال کپور کا کہنا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات مضبوط ہونے سے ہندوستان میں روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘ @State_SCA</p></div>

تصویر ’ایکس‘ @State_SCA

 

امریکی محکمۂ خارجہ کے نائب سکریٹری ایس پال کپور نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور ہندوستان مل کر دفاع اور جوہری توانائی کے شعبہ میں مزید کام کریں گے۔ دونوں ممالک محفوظ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ایسی نئی ٹیکنالوجیز پر بھی مل کر کام کر رہے ہیں، جن سے تجارت اور معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ باتیں کپور نے ہوور انسٹی ٹیوشن میں ہندوستان پر منعقدہ ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے دوران کہیں۔

اس اجلاس میں امریکہ کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور ہندوستان میں امریکہ کے سابق سفیر ڈیوڈ سی ملفورڈ بھی شریک تھے۔ پال کپور نے ہند-امریکہ تعلقات پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بھی ایک پوسٹ کی ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات مضبوط ہونے سے ہندوستان میں روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی سپلائی چین بھی بہتر ہو رہی ہے جو ہندوستان، امریکہ اور پورے خطے کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔ سینئر امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک دفاع، جوہری توانائی اور قابل اعتماد مصنوعی ذہانت جیسی نئی ٹیکنالوجیز میں تعاون کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت خشکی، سمندر، فضا، خلا اور سائبر اسپیس سمیت ہر محاذ پر دونوں ممالک کی افواج مل کر کام کریں گی۔ 2002 سے اب تک ہندوستان نے اپنی فوج کے لیے امریکہ سے کئی جدید اور بڑے ہتھیار خریدے ہیں۔ ان میں اپاچے اور چنوک ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سی-17 اور سی-130جے نقل و حمل کے طیارے، پی-8 آئی سمندری نگرانی کے طیارے اور ایم777 ہاؤٹزر توپیں بھی شامل ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے حال ہی میں بعض قواعد میں نرمی کی ہے۔ اس کے بعد امریکی عہدیداروں کا ایک وفد ہندوستان آیا تھا تاکہ وہ ہندوستانی پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کا آغاز کر سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔