
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
امریکہ اور انڈونیشیا کے درمیان 13 اپریل کو ایک اہم دفاعی معاہدہ ہونے والا تھا، لیکن اس سے عین قبل ایسا انکشاف ہوا جس نے امریکہ کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ ایک ہندوستانی میڈیا میں اس خفیہ منصوبہ کا ذکر سامنے آ گیا، جس کے تحت امریکہ کو انڈونیشیا کی فضائی حدود میں کھلی چھوٹ ملنے والی تھی۔ اس منصوبہ کا مطلب تھا کہ امریکی فوجی طیارے بلا روک ٹوک انڈونیشیا کی فضائی حدود کا استعمال کر سکتے تھے۔ اس کا اصل مقصد صرف پرواز بھرنا نہیں بلکہ ایک بڑے اسٹریٹجک علاقے ’آبنائے ملکّا‘ پر نظر رکھنا تھا۔ یہ وہی سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کا تقریباً 30 فیصد تیل اور 40 فیصد تجارتی سامان گزرتا ہے۔
Published: undefined
رپورٹ سامنے آتے ہی انڈونیشیا میں سیاسی ہلچل مچ گئی۔ وہاں کے اراکین پارلیمنٹ نے سوال اٹھایا کہ کسی غیر ملکی فوج کو ملک کی فضائی حدود میں اتنی بڑی چھوٹ کیسے دی جا سکتی ہے۔ انڈونیشیائی پارلیمنٹ کے لیڈران نے واضح طور پر کہا کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر نہیں لیا جا سکتا۔ اس کے بعد انڈونیشیائی حکومت کو فوری طور پر صفائی دینی پڑی۔ وزارت دفاع نے کہا کہ جو معاہدہ ہوا ہے اس میں امریکی طیاروں کو اوور فلائٹ رسائی دینے والی بات شامل ہی نہیں ہے۔ یعنی اصل معاہدہ تو ہوا، لیکن اس کا سب سے اہم اور متنازعہ حصہ باہر کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ یہ منصوبہ فروری میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور انڈونیشائی صدر پرابوو سوبیانتو کی ملاقات کے دوران سرخی میں آیا تھا۔ بعد میں حتمی شکل دینے کی تیاری تھی لیکن خبر کے لیک ہونے کے بعد پورا منظر نامہ ہی بدل گیا۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا جان بوجھ کر اس خبر کو لیک کیا گیا؟ کچھ ماہرین کا خیال ہے یہ صرف ایک میڈیا رپورٹ نہیں بلکہ ایک بڑا جغرافیائی سیاسی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ’آبنائے ملکّا‘ صرف انڈونیشیا کے لیے ہی نہیں بلکہ ہندوستان اور چین چیسے ممالک کے لیے بھی بے حد اہم ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ یہ سمندری راستہ ہندوستان کے لیے اہم ہے کیونکہ اس کی تقریباً 55 فیصد تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔ جبکہ چین کے لیے تو یہ راستہ اور بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ اس کی تقریباً 80 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے پر منحصر ہے۔ ایسے میں اگر امریکہ کو یہاں کی فضائی حدود میں براہ راست داخلہ مل جاتا تو وہ اس پورے علاقے میں اپنی نگرانی اور گرفت مضبوط کر سکتا تھا۔ اسی وجہ سے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدہ سے کئی ممالک غیر مطمئن تھے۔ رپورٹ لیک ہونے بعد انڈونیشیا کے اندر ہی مخالفت ہونے لگی اور حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ فی الحال یہ معاہدہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے، لیکن اس کا سب سے اہم حصہ ٹھنڈے بستے میں چلا گیا ہے۔ امریکہ اور انڈونیشیا اب بھی بات چیت کر رہے ہیں، لیکن اب یہ صاف ہے کہ کسی بھی ایسے معاہدے میں انڈونیشا اپنی خود مختاری کے حوالے سے زیادہ محتاط رہے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined