خبریں

تھائی لینڈ سے دہلی آ رہی ایئر انڈیا کی فلائٹ کو شدید ٹربولنس کا سامنا، اچانک نیچے اترنے لگا طیارہ، کئی مسافر زخمی

مسافروں نے بتایا کہ دہلی میں لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے طیارہ اچانک نیچے آنے لگا اور ہچکولے کھانے لگا۔ اس سے مسافروں میں چیخ و پکار مچ گئی۔

<div class="paragraphs"><p>ایئر انڈیا</p></div>

ایئر انڈیا

 

ایئر انڈیا کی تھائی لینڈ سے دہلی آ رہی پرواز میں شدید ٹربولنس (تیز ہوا کے جھٹکے) کی وجہ سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ طیارہ میں لگنے والے جھٹکوں کی وجہ سے کئی مسافر زخمی بھی ہو گئے ہیں۔ یہ طیارہ تھائی لینڈ کے پھوکیت سے دہلی آ رہا تھا اور منزل کے قریب طیارہ ٹربولنس کا شکار ہو گیا۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ٹربولنس اتنا شدید تھا کہ کسی کے کان میں تو کسی کی گردن میں چوٹیں آئی ہیں۔ ان کا علاج کرایا جا رہا ہے۔

’ایئر انڈیا‘ نے اس ٹربولنس کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ 4 اگست کو پھوکیت سے دہلی جانے والی فلائٹ ’اے آئی 2379‘ کو دوران پرواز کچھ دیر کے لیے ٹربولنس کا سامنا کرنا پڑا، جس سے طیارے کی بلندی میں اچانک معمولی تبدیلی آئی۔ ایئرلائن کمپنی نے مزید بتایا کہ طیارہ دہلی میں بحفاظت اتر گیا ہے اور تمام مسافروں کے ساتھ ساتھ عملے کے اراکین کو بھی بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے۔

اس واقعہ سے متعلق مسافروں نے بتایا کہ دہلی میں لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے طیارہ اچانک نیچے آنے لگا اور ہچکولے کھانے لگا۔ اس سے مسافروں میں چیخ و پکار مچ گئی۔ اس دوران کئی مسافر زخمی ہو گئے۔ کچھ دیر کے لیے طیارے میں افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا، تاہم پائلٹ نے بڑی مشکل سے طیارے کو کامیابی کے ساتھ لینڈ کرایا۔ ایک مسافر کا کہنا ہے کہ طیارہ میں تقریباً 100 مسافر تھے جن میں 70 سے 80 فیصد زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایئر انڈیا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں ایئر انڈیا کے حوالہ سے بتایا جا رہا ہے کہ اب تک کسی کو بھی مسافر کو شدید چوٹ نہیں آئی ہے۔ جن چند مسافروں اور عملے کے اراکین کو معمولی چوٹیں آئی ہیں، اور جنہیں طبی جانچ کی ضرورت تھی، انہیں احتیاطاً جانچ اور دیکھ بھال کے لیے ایئر انڈیا کی ایئرپورٹ ٹیم اور طبی عملے نے ایئرپورٹ پر ہی موجود طبی سہولت مرکز پہنچایا ہے۔ ایئر انڈیا نے یہ بھی کہا کہ مسافروں اور پائلٹ ٹیم کی سیکورٹی و ان کی صحت ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔ متاثرہ لوگوں کو ہر ضروری مدد دی جا رہی ہے اور ساتھ ہی اس معاملے کی جانچ میں متعلقہ افسران کے ساتھ پورا تعاون کیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔