
ایران میں احتجاجی مظاہرہ کی فائل تصویر، سوشل میڈیا
ایران میں پُرتشدد مظاہروں کا دور جاری ہے۔ بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں، لیکن حقیقی تعداد ابھی تک سامنے نہیں آ پائی ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں ہزاروں اموات کا دعویٰ ضرور کیا جا رہا ہے، حالانکہ کچھ بھی مصدقہ طور پر نہیں ہے۔ اموات سے متعلق تازہ دعویٰ ایک ایرانی نیوز ویب سائٹ نے کیا ہے، جس کے مطابق پُرتشدد مظاہروں میں تقریباً 12 ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
Published: undefined
اس درمیان سینکڑوں لاشوں کی اجتماعی تدفین جلد کیے جانے کی رپورٹ بھی سامنے آ رہی ہے۔ انگریزی روزنامہ ’دی گارجین‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بدھ کی شام 300 لاشوں کی اجتماعی تدفین ہوگی۔ یہ بھی مطلع کیا گیا ہے کہ جن لاشوں کی تدفین ہوگی، ان میں مظاہرین کے ساتھ ساتھ سیکورٹی اہلکار کی لاشیں بھی شامل ہوں گی۔ یہ عمل سخت سیکورٹی کے درمیان تہران یونیورسٹی کیمپس میں انجام دیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر نظر رکھنے والے امریکی ادارہ ’ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ نیوز ایجنسی‘ نے بتایا کہ اب تک 2550 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 2403 مظاہرین اور 147 حکومت سے منسلک لوگ شامل ہیں۔ حالانکہ ایران سے متعلق معاملوں کا احاطہ کرنے والی ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں کم از کم 12 ہزار لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ بیشتر لوگ گولی لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔
Published: undefined
26 سالہ ایک شخص کو آج (بدھ) ہی پھانسی پر چڑھائے جانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس نوجوان کا نام عرفان سلطانی ہے۔ ’دی گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق انھیں 8 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 11 جنوری کو انھیں موت کی سزا سنائی گئی، اور اب پھانسی دینے کی تیاریاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں۔ عرفان سلطانی پر تشدد پھیلانے اور ’خدا کے خلاف جنگ شروع کرنے‘ جیسا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں مزید کوئی ٹرائل نہیں ہوگا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اہل خانہ کو محض 10 منٹ کے لیے آخری ملاقات کا موقع دیا جائے گا۔
Published: undefined
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایران میں تشدد اپنے 18ویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔ ان مظاہروں کا اثر عالمی سطح پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے تو 13 جنوری کو ایک بیان میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ایران میں اگر افسران حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے لوگوں کو پھانسی دینا شروع کرتے ہیں، تو امریکہ سخت جواب دے گا۔ اس کے جواب میں ایران کے قومی تحفظ کے سبراہ علی لاریزانی نے امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایران میں لوگوں کا قاتل بتایا۔
Published: undefined
بہرحال، ایران میں پرتشدد مظاہروں کو دیکھتے ہوئے حکومت ہند نے بدھ کے روز شہریوں کے لیے نئی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو بھی ہندوستانی شہری، چاہے وہ طالب علم ہوں، سیاح ہوں یا تاجر ہوں، اس وقت ایران میں ہیں تو انھیں جلد از جلد وہاں سے نکل جانا چاہیے۔ اس ایڈوائزری میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ تازہ ہدایات 5 جنوری کو جاری ایڈوائزری کا ہی سلسلہ ہے، اور ایران میں بدلے حالات کو دیکھتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی دہرایا کہ سبھی ہندوستانی شہریوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ انھیں احتجاجی مظاہرہ یا بھیڑ بھاڑ والی جگہوں سے دور رہنا چاہیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز