قومی خبریں

’آپ چاہتے ہیں کہ ہم آئی سی سی کو بنگلہ دیش پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیں‘، مفاد عامہ کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ برہم

عدالت نے عرضی گزار سے کہا کہ ’’چونکہ آپ طالب علم ہیں، اس لیے ہم بغیر جرمانہ عائد کیے چھوڑ رہے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے لیے آپ پیسہ کہاں سے لائیں گے۔‘‘

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی 

ہندوؤں کے خلاف تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیش پر تمام کرکٹ مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ایک عرضی دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی۔ مفاد عامہ کی اس عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے عرضی گزار لا اسٹوڈنٹ کو جم کر پھٹکار لگائی۔ عدالت نے عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کس طرح کی عرضی ہے؟ اس طرح کی عرضی داخل کر آپ عدالت کا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں۔

Published: undefined

جج نے کہا کہ عدالت اپنی جانب سے بنگلہ دیش ہائی کمیشن، سری لنکا کرکٹ بورڈ، آئی سی سی اور ہندوستانی حکومت کو ایسی ہدایت کیسے دے سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ کھیلنا یا نہ کھیلنا، یہ طے کرنا حکومت کا کام ہے۔ عدالت نے عرضی گزار سے کہا کہ چونکہ آپ طالب علم ہیں، اس لیے ہم بغیر جرمانہ عائد کیے چھوڑ رہے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے لیے آپ پیسہ کہاں سے لائیں گے۔ اگر کچھ کرنا چاہو تو معاشرے میں کرنے کے لیے بہت سے بامقصد کام ہیں۔

Published: undefined

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ یہ کس طرح کی پی آئی ایل (مفاد عامہ کی عرضی) ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی صدارت والی ڈویژن بنچ نے لا اسٹوڈنٹ کو وارننگ دی کہ اس معاملے کو آگے بڑھانے پر بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ آپ ایک طالب علم ہیں، اس لیے ہم آپ کو صرف وارننگ دے رہے ہیں۔ ہم آپ کی بات سنیں گے، لیکن صرف وارننگ کے ساتھ، ہمیں نہیں معلوم کہ آپ خرچ کہاں سے اٹھائیں گے۔

Published: undefined

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا بی سی سی آئی کی جانب سے پیش ہوئے اور مفاد عامہ کی عرضی میں نامزد مدعا علیہان کا ذکر کیا۔ عدالت نے عرضی گزار لا اسٹوڈنٹ سے کہا کہ اس بارے میں سوچیے۔ ایسی عرضی داخل کر کے آپ بلا وجہ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش ہائی کمیشن، سری لنکا کرکٹ بورڈ، آئی سی سی یہاں تک کہ ہندوستانی حکومت کو بھی کسی خاص طریقے سے کام کرنے کے لیے کوئی رِٹ جاری نہیں کی جا سکتی، خاص کر اس صورت میں جو بنگلہ دیش میں کسی واقعہ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو۔ یہ ایگزیکٹو کے اختیار ہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے عرضی گزار کو مزید تعمیری کام کرنے کا مشورہ دیا اور عرضی کو واپس لی ہوئی تسلیم کر خارج کر دی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined