’سنگین سائڈ ایفیکٹ کے معاملات میں متاثرین کو معاوضہ دینے کی پالیسی تیار کی جائے‘، کووڈ ویکسین پر سپریم کورٹ کا حکم

عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ کووڈ-19 ویکسین لینے کے بعد اگر کسی شخص کو سائیڈ ایفیکٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ایسے معاملات میں راحت دینے کے لیے ’نو-فالٹ کمپنسیشن سسٹم‘ تیار کیا جائے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کووڈ-19 ویکسینیشن سے متعلق معاملوں میں سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ کووڈ-19 ویکسین لینے کے بعد اگر کسی شخص کو سائیڈ ایفیکٹ (مضر اثرات) کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ایسے معاملات میں راحت دینے کے لیے ’نو-فالٹ کمپنسیشن سسٹم‘ تیار کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ نظام مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کے ذریعے نافذ کیا جانا چاہیے۔ عدالت کے مطابق اس پالیسی کا مقصد ان لوگوں کو مدد فراہم کرنا ہے، جنہیں ویکسینیشن کے بعد مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس نئی پالیسی میں ایسے معاملات کے لیے معاوضے کا التزام ہوگا، جہاں ویکسین لینے کے بعد سنگین مضر اثرات سامنے آئے ہوں۔ حالانکہ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ویکسینیشن کے بعد ہونے والے مضر اثرات کی نگرانی کے لیے جو موجودہ نظام پہلے سے کام کر رہا ہے، وہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اس نگرانی کے نظام سے متعلق متعلقہ ڈیٹا وقتاً فوقتاً عوامی کیا جا سکتا ہے، تاکہ لوگوں کو درست معلومات ملتی رہیں اور شفافیت برقرار رہے۔


سپریم کورٹ نے سائنسی جائزے سے متعلق مسئلے پر بھی تبصرہ کیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن سے متعلق معاملات کی تحقیقات اور تشخیص کے لیے پہلے سے ہی کئی سائنسی اور تکنیکی نظام موجود ہیں۔ اس لیے عدالت کو اس معاملے میں الگ سے کسی نئی ماہر کمیٹی مقرر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ’نو-فالٹ کمپنسیشن فریم ورک‘ تیار کرنے کا مطلب یہ نہیں مانا جائے گا کہ مرکزی حکومت یا کسی دوسری اتھارٹی اپنی کوئی ذمہ داری یا غلطی قبول کی ہے۔ عدالت کے مطابق اس فیصلے کے باجود کسی بھی شخص کے لیے قانون کے تحت دستیاب دیگر قانونی راہ بند نہیں ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔