
پون کھیڑا / آئی اے این ایس
خواتین ریزرویشن اور حدبندی بل کو لے کر نئے سرے سے سیاسی ہنگامہ شروع ہو گیا ہے۔ خواتین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے متعلق کانگریس رہنما راہل گاندھی کے بیان پر بی جے پی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بی جے پی نے راہل گاندھی سے پوچھا کہ آخر خواتین ریزرویشن بل پر ساتھ کیوں نہیں دیتے؟ دوسری جانب کانگریس کا کہنا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل کو لوک سبھا نے 20 ستمبر 2023 کو اور راجیہ سبھا نے 21 ستمبر کو پاس کیا تھا۔ حکومت حدبندی سے جوڑ کر اس قانون کو روک رہی ہے۔
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’خواتین ریزرویشن بل کو لوک سبھا نے 20 ستمبر 2023 کو اور راجیہ سبھا نے 21 ستمبر کو پاس کیا تھا اور اسے 28 ستمبر کو صدر جمہوریہ کی منظوری ملی تھی۔ کانگریس نے پورے دل سے اس کی حمایت کی تھی۔ پھر بھی بی جے پی حکومت نے ڈھائی سال سے زائد وقت تک یعنی 16 اپریل 2026 تک اس قانون کا نوٹیفکیشن تک جاری نہیں کیا کیوں؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ’’آخر خواتین ریزرویشن کو مردم شماری اور حدبندی سے کیوں جوڑا گیا تھا؟‘‘
پون کھیڑا کے علاوہ کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ مسٹر دیویندر فڑنویس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی اسٹیج پر خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں بڑے بڑے بیانات دیتے ہیں۔ لیکن جب خواتین کے لیے ریزرویشن بل منظور کرنے کی بات آئی تو انہوں نے اور ان کی پارٹی نے اس کی سخت مخالفت کی۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’مجھے یقین ہے کہ یہ بیان ذہنی تھکن کی وجہ سے دیا گیا ہوگا، کیونکہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں نشستوں کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا التزام کرنے والا آئین (106ویں ترمیم) بل 2023 میں پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا ہے۔ کانگریس نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس بل کی بھرپور حمایت کی تھی۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے پونے میں منعقد ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’منوسمرتی کا براہ راست کہنا ہے کہ ایک خاتون کو کبھی آزاد نہیں رہنا چاہیے۔ یہ بے حد شرمناک ہے، کیونکہ ایسے الفاظ کا استعمال کبھی بھی نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ ’’خواتین کو دبانے کی ذہنیت منوسمرتی سے آتی ہے اور آج ہماری لڑائی اسی ذہنیت سے ہے۔ بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ چاہتے ہین کہ لڑکیاں اور خواتین پنجرے میں بند رہیں، لیکن ہم ایسا ہندوستان نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب کی عزت ہو۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔