ابھیشیک بنرجی کو کلکتہ ہائی کورٹ سے راحت، اکاؤنٹ پر عائد ڈیبٹ پابندی ختم، بینک کو پیشگی اطلاع کا مشورہ
ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کے ذاتی بینک اکاؤنٹ پر عائد ڈیبٹ پابندی ختم کر دی گئی۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے بینک کو پابندی سے قبل صارف کو اطلاع دینے کا مشورہ دیا

کولکاتا: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کو کلکتہ ہائی کورٹ سے راحت ملی ہے۔ ان کے ذاتی بینک اکاؤنٹ پر عائد ڈیبٹ پابندی ختم کر دی گئی ہے اور ان کے ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈ بھی دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے بینک کو اکاؤنٹ پر ڈیبٹ سے متعلق پابندی عائد کرنے سے قبل صارف کو پیشگی اطلاع دینے کا مشورہ دیا ہے۔
بینک کی جانب سے اکاؤنٹ پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد ابھیشیک بنرجی نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ بینک نے انہیں اطلاع دیے بغیر ان کا ذاتی اکاؤنٹ منجمد کر دیا اور ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈ بلاک کر دیے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی تھی جب رواں ماہ کے آغاز میں سپریم کورٹ نے انہیں آنکھوں کے علاج کے لیے امریکہ جانے کی اجازت دی تھی۔
پیر کو معاملے کی سماعت جسٹس راؤ کی بنچ کے سامنے ہوئی۔ اس دوران بینک حکام نے عدالت کو بتایا کہ کے وائی سی (اپنے صارف کو جانیں) کی تفصیلات اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ابھیشیک بنرجی کے اکاؤنٹ سے ڈیبٹ ٹرانزیکشن پر پابندی عائد کی گئی تھی اور ان کے ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈ بلاک کیے گئے تھے۔
بینک حکام کے مطابق اب کے وائی سی کی تفصیلات اپ ڈیٹ کر دی گئی ہیں، جس کے بعد ڈیبٹ پر عائد پابندی ہٹا دی گئی ہے اور دونوں کارڈ دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں۔
بینک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ابھیشیک بنرجی کا اکاؤنٹ کچھ عرصے کے لیے منجمد کیا گیا تھا، تاہم بینک حکام نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا۔ وکیل کے مطابق بنرجی کا نام ایک دوسرے معاملے میں شامل تھا اور اس سلسلے میں اطلاع ملنے کے بعد معمول کے طریقہ کار کے تحت اکاؤنٹ کو عارضی طور پر منجمد کیا گیا تھا۔ تاہم اب اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔
بینک کی وضاحت سننے کے بعد جسٹس راؤ نے معاملے کا تصفیہ کر دیا۔ سماعت کے اختتام پر عدالت نے بینک حکام کو مشورہ دیا کہ کسی بھی صارف کے اکاؤنٹ پر ڈیبٹ سے متعلق پابندی عائد کرنے سے پہلے اسے اس بارے میں مطلع کیا جائے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
