قومی خبریں

کسے ملے گی این سی پی کی کمان! ممبئی میں پارٹی رہنماؤں کا اجلاس، جتیندر اوہاڈ سمیت کئی رہنما مستعفی

جہاں ایک طرف پارٹی لیڈر اور کارکنان شرد پوار سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ بدلیں اور صدر بنے رہیں، تو وہیں پارٹی لیڈر چھگن بھجبل نے نیا فارمولہ پیش کر دیا ہے۔

شرد پوار، تصویر آئی اے این ایس
شرد پوار، تصویر آئی اے این ایس 

ممبئی: شرد پوار کے این سی پی سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے اعلان کے بعد نئے صدر کو لے کر سسپنس برقرار ہے۔ پارٹی کارکنان شرد پوار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں، جبکہ پارٹی لیڈران اجلاس کر کے اس صورت حالا پر فیصلہ کے لیے غور و غوض کر رہے ہیں۔

Published: undefined

جہاں ایک طرف پارٹی لیڈر اور کارکنان شرد پوار سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ بدلیں اور صدر بنے رہیں، تو وہیں پارٹی لیڈر چھگن بھجبل نے نیا فارمولہ پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم شرد پوار کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر وہ راضی ہوجاتے ہیں تو وہ صدر رہیں گے لیکن اگر وہ متفق نہ ہوئے تو کمیٹی اجلاس کر کے نئے صدر کا فیصلہ کرے گی۔ تاہم، چھگن بھجبل نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سپریا سولے قومی صدر بنیں، ملک بھر میں پارٹی کا کام دیکھیں۔ اس کے ساتھ ہی اجیت پوار کو مہاراشٹر میں این سی پی کی کمان ملنی چاہئے۔

Published: undefined

دریں اثنا، این سی پی لیڈر جتیندر اوہاڈ سمیت کئی لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اجیت پوار بھی این سی پی کے دفتر (وائی بی چوان سینٹر) پہنچ گئے ہیں، جہاں این سی پی لیڈروں کا اجلاس جاری ہے۔ شرد پوار اور سپریا سولے ممبئی میں این سی پی کے دفتر پہنچ گئے ہیں، پرفل پٹیل بھی دفتر میں موجود ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ تھوڑی دیر میں این سی پی کمیٹی کی میٹنگ ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف اجیت پوار کے گھر پر این سی پی لیڈروں کا اجتماع ہے۔ این سی پی کے ممبران اسمبلی ان سے ملنے پہنچ رہے ہیں۔ شرد پوار سے ملاقات کے بعد کچھ ایم ایل اے اجیت پوار سے ملنے گئے۔

Published: undefined

یاد رہے کہ این سی پی کے کارکنان اور حامی صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے شرد پوار کے فیصلے سے افسردہ ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ شرد پوار سے اپنا فیصلہ بدلنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، شرد پوار کے ایک حامی نے تو انہیں خون سے خط لکھا ہے، جس میں اس نے اپیل کی ہے کہ شرد پوار صدر کے عہدے پر برقرار رہیں۔ کچھ کارکن دھرنے پر بھی بیٹھ گئے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined