دہلی جمخانہ کلب معاملہ: 600 ملازمین پر لٹکی بے روزگاری کی تلوار، سبھی فکر میں مبتلا
کلب کے ایک ملازم جو آئندہ سال ریٹائر ہونے والے ہیں، ان کے مطابق نوجوان ملازمین سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ انہیں اپنے اہل خانہ اور مستقبل کی فکر ستا رہی ہے۔

لوٹینس دہلی کے تاریخی ’دہلی جم خانہ کلب‘ کو مرکزی حکومت نے 5 جون تک خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم کے بعد کلب کے تقریباً 600 ملازمین کا مستقبل اور ان کی نوکریاں خطرے میں دکھائی دے رہی ہیں۔ حالانکہ بڑھتے تناؤ کے درمیان دہلی جم خانہ کلب مینجمنٹ نے ملازمین کو راحت بھری خبر ضرور سنائی۔ انتظامیہ نے پیر کو واضح کیا کہ کلب فوراً بند نہیں ہونے جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دہلی کے جم خانہ کلب کو پانچ جون تک خالی کرنے کا حکم
واضح رہے کہ پیر (25 مئی) کی صبح کئی ملازمین کلب کے باہر بنے ’پیر بابا‘ مندر پہنچے۔ وہاں انہوں نے کلب کے مستقبل کے لیے دعا مانگی۔ انہوں نے کہا کہ زیارت کے فوراً بعد انہیں عام کمیٹی کے اراکین سے یہ جانکاری ملی کہ ملازمین کے مفادات کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ’پی ٹی آئی‘ کے مطابق جم خانہ ملازمین ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر نندن سنگھ نیگی نے کہا کہ ’’دن میں ہمیں کلب کے صدر ملئے سنہا اور ڈائریکٹر کلدیپ چہل کا فون آیا۔ انہوں نے ہمیں یقین دلایا کہ ہمارے خدشات کو ایک تحریری نوٹ کے ذریعہ حکومت تک پہنچا دیا گیا ہے اور اس پر بات چیت چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے مفاد کو سب سے زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے، تاکہ کسی بھی ملازم کو کسی بھی طرح کے برے نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘
ملازمین نے بتایا کہ وہاں کا ماحول خوف و ہراس اور مسلسل افواہوں سے بھرا ہوا ہے۔ انہیں پہلے سے اس بات کا علم نہیں تھا، انہیں اخبار اور نیوز چینلوں سے اس کا پتہ چلا۔ کلب کے ایک ملازم نے کہا کہ ’’ہمیں کلب بند ہونے کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ اس روز اچانک تمام اراکین کے فون بجنے لگے۔ رات ہوتے ہوتے اس حکم پر بات چیت کرنے کے لیے مزید اراکین کلب میں آنے لگے۔‘‘ ملازم نے مزید کہا کہ ’’ہمیں اس بارے میں صرف فون کال، نیوز رپورٹس اور دوسروں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معلوم ہوا۔ اس دن سے لے کر اب تک ہم میں سے کئی لوگ ٹھیک سے سو بھی نہیں پائے ہیں۔ ہمیں اپنے اہل خانہ کی دیکھ بھال کرنی ہے اور اپنا گھر بار چلانا ہے۔‘‘
کئی ملازمین نے کہا کہ ان کی پوری زندگی اس کلب سے جڑی رہی ہے۔ کئی نسلیں یہاں کام کرتی آئی ہیں۔ بچوں کا بچپن اسی کلب میں گزرا ہے۔ ان کے مطابق ایک دن میں اتنا پرانا رشتہ ختم نہیں ہو سکتا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی صرف ملازمت کی نہیں بلکہ خاندان کے مستقبل کی ہے۔ جبکہ کچھ ملازمین نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ چند سالوں میں ان کی سہولیات کم ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی ملازمین کو 2022 سے مہنگائی بھتہ نہیں ملا۔ بونس گھٹا دیا گیا، گریچیوٹی میں کٹوتی ہوئی اور ریٹائرمنٹ کی عمر بھی 62 سے گھٹا کر 60 سال کر دی گئی۔
کلب کے ایک ملازم جو آئندہ سال ریٹائر ہونے والے ہیں، ان کے مطابق نوجوان ملازمین سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ انہیں اپنے اہل خانہ اور مستقبل کی فکر ستا رہی ہے۔ ملازمین نے کلب کے بڑے کھیل ڈھانچے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ٹینس گراس کورٹ، ہارڈ کورٹ، سوئمنگ پول اور کئی کھیلوں کی سہولیات موجود ہیں۔ ملازمین نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کھیلوں کا ڈھانچہ بڑھانا چاہتی تھی تو گزشتہ 5 سالوں میں کیوں کچھ نہیں کیا گیا؟
اگرچہ جم خانہ انتظامیہ نے ملازمین کو یقین دلایا ہو، لیکن ملازمین میں اب بھی گھبراہٹ برقرار ہے۔ کئی ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک ملازمت کی سیکورٹی سے متعلق کوئی تحریری ضمانت نہیں ملی ہے۔ ملازمین نے وارننگ دی ہے کہ اگر انہیں جلد ہی مناسب معاوضہ یا کوئی منصوبہ نہیں ملا تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ اس درمیان دہلی جم خانہ کلب نے مرکزی حکومت کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے اس معاملے پر جلد سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت آج اس عرضی پر سماعت کرنے کے لیے راضی ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے مرکزی وزارت برائے ہاؤسنگ اور شہری امور کے تحت آنے والے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے کلب کو 27.3 ایکڑ زمین 5 جون تک خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ حکومت نے کہا کہ اس زمین کی ضرورت اہم ادارہ جاتی کام، انتظامی ڈھانچے اور دفاعی انفراسٹرکچر کے لیے ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی جم خانہ کلب ملک کے سب سے پرانے اور وی آئی پی کلبوں میں سے ایک ہے۔ برطانوی دور حکومت میں سال 1913 میں اس کی شروعات ’امپیریل دہلی جم خانہ کلب‘ کے طور پر ہوئی تھی۔ آزادی کے بعد اس کا نام بدل کر دہلی جم خانہ کلب کر دیا گیا تھا۔ یہ کلب اپنی بہترین کھیلوں کی سہولیات اور عالی شان احاطے کے لیے جانا جاتا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
