
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / یو این آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار (10 مئی) کو ملک کی عوام سے اپیل کی کہ آئندہ ایک سال تک وہ سونا نہ خریدیں، غیر ملکی سفر میں کمی کریں اور پٹرول کم خرچ کریں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ورک فراہم ہوم کی بھی بات کی۔ ان کی اس اپیل پر کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’جب غریبی میں آٹا گیلا ہو رہا ہے تب مودی جی ملک کو بچت کرنے کا پاٹھ پڑھا رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس صدر مزید لکھتے ہیں کہ ’’28 فروری کو جب مغربی ایشیا میں جنگ شروع ہوئی تب کانگریس پارٹی نے ہر پہلو کو نمایاں کیا تھا۔ جیسے معیشت کی بربادی، روپے کی مسلسل گراوٹ، پٹرول-ڈیزل-ایل پی جی کی قیمت اور قلت، کسانوں کے لیے کھاد کی کمی، فوڈ سیکورٹی پر منڈلاتا خطرہ، دوائیوں کی قیمت، ایم ایس ایم ای کا بحران اور بہت کچھ!!‘‘ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی سے کچھ تلخ سوالات بھی کیے کہ ’’وزیر اعظم مودی جی انتخابی تشہیر میں کیوں مشغول تھے؟ کیوں روڈ شو کر رہے تھے؟ کیوں کہہ رہے تھے کہ صورتحال قابو میں ہے، سب چَنگا سی؟‘‘
Published: undefined
ملکارجن کھڑگے مزید لکھتے ہیں کہ ’’اب جب انتخابات ختم ہو گئے ہیں تو ملک کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ یہ مت کریے، وہ مت خریدیے، اس کی بچت کیجیے، ورک فرام ہوم کیجیے...!‘‘ کانگریس کے قومی صدر کا کہنا ہے کہ ’’اپنی 12 سالہ ناکامی کا ٹھیکرا ملک کی عوام پر مت پھوڑیے مودی جی!! گوسوامی تلسی رام نے صحیح کہا ہے – ’پر اُپدیش کُشل بہتیرے‘ (دوسروں کو نصیحت کرنا بہت آسان ہے)‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم مودی نے اتوار کو حیدرآباد میں بی جے پی کی تلنگانہ اکائی کے ذریعہ منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں سے تحمل برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی۔ خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی اور گلوبل انرجی کو لے کر بڑھتے دباؤ کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ لوگوں کو پٹرول، ڈیزل اور گیس کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر اور تحمل کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا کے دور میں ملک نے ورک فرام ہوم، آن لائن میٹنگ اور ویڈیو کانفرنسگ جیسے انتظامات کو اپنایا تھا۔ ایسے میں موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ان انتظامات کو پھر سے ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined