
گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia
لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کی تقریر پر شکریہ کی تجویز پر بحث کے دوران اس وقت ماحول اچانک گرم ہو گیا، جب حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ڈوکلام اور چین سے متعلق واقعات کا ذکر کرنا شروع کیا۔ راہل گاندھی سابق فوجی چیف جنرل منوج مکند نروَنے کی غیر مطبوعہ انگریزی کتاب ’فور اسٹارس آف ڈیسٹنی‘ کا حوالہ دے رہے تھے۔ جیسے ہی انھوں نے اس کتاب کے ایک حصہ کا حوالہ دینا شروع کیا، برسراقتدار طبقہ نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ اس معاملہ میں کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر مودی حکومت کو کس بات کا خوف ہے؟ وہ سچائی عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھنے دے رہی؟
Published: undefined
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’فیس بک‘ ہینڈل سے مذکورہ کتاب کے کچھ حصے پیش کیے ہیں اور بتانے کی کوشش کی ہے کہ آخر پی ایم مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کیوں اس سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ کتاب سے اقتباس پیش کرنے سے پہلے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’یہ جنرل منوج مکند نرونے کی کتاب ’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘ کا وہی حصہ ہے، جسے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی پارلیمنٹ میں کوٹ (حوالہ) کرنا چاہتے ہیں۔ آخر اس کتاب میں ایسا کیا لکھا ہے کہ مودی حکومت گھبرا رہی ہے۔ آپ خود پڑھ لیجیے کتاب کا وہ حصہ۔‘‘
Published: undefined
کانگریس نے جنرل ایم ایم نروَنے کی کتاب کا جو حصہ سوشل میڈیا پوسٹ میں شامل کیا ہے، اور جو باتیں سامنے رکھی ہیں، اس کا اُردو ترجمہ اس طرح ہے:
لیفٹیننٹ جنرل یوگیش جوشی، جو ہندوستانی فوج کی ناردرن کمانڈ کے سربراہ ہیں، کو 31 اگست 2020 کو رات 8.15 بجے ایک فون کال آئی۔ انہیں جو جانکاری ملی، اس سے وہ فکر مند ہو گئے۔ انفنٹری کے سپورٹ کے ساتھ 4 چینی ٹینک مشرقی لداخ میں ’ریچن لا‘ کی طرف ایک کھڑی پہاڑی کے راستے آگے بڑھنے لگے تھے۔
Published: undefined
جوشی نے اس موومنٹ کی اطلاع آرمی چیف جنرل منوج مکند نروَنے کو دی، جنہوں نے فوراً صورتحال کی سنگینی کو سمجھ لیا۔ ٹینک کیلاش رینج پر ہندوستانی ٹھکانوں سے چند سو میٹر کے فاصلے پر تھے۔ یہ ایک اسٹریٹجک اونچی جگہ تھی، جس پر ہندوستانی فوج نے کچھ گھنٹے پہلے ہی قبضہ کیا تھا۔ متنازع لائن آف ایکچول کنٹرول (جو دونوں ملکوں کے درمیان اصل سرحد ہے) کے اس علاقے میں اونچائی کا ہر میٹر اسٹریٹجک دباؤ میں بدل جاتا ہے۔
ہندوستانی سپاہیوں نے ایک illuminating round فائر کیا، جو ایک طرح کی وارننگ تھی۔ اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ چینی آگے بڑھتے رہے۔ نروَنے نے ہندوستان کے سیاسی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیڈروں کو لگاتار فون کرنا شروع کر دیا، جن میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر شامل تھے۔
Published: undefined
’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘ میں نروَنے لکھتے ہیں– میرا سب سے ایک ہی سوال تھا ’’میرے لیے احکامات کیا ہیں؟‘‘
صورتحال تیزی سے بگڑ رہی تھی اور وضاحت کی ضرورت تھی۔ موجودہ پروٹوکول کے مطابق نروَنے کو صاف احکامات تھے کہ ’’جب تک اوپر سے منظوری نہ ملے، تب تک گولی نہ چلائیں۔‘‘ اوپر سے کوئی واضح ہدایات نہیں آئیں۔ منٹ گزرتے گئے۔ رات 9.10 بجے لیفٹیننٹ جنرل جوشی نے پھر فون کیا۔ چینی ٹینک آگے بڑھتے ہوئے درّے سے ایک کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر آ گئے تھے۔ رات 9.25 بجے نروَنے نے راج ناتھ کو پھر فون کیا، ’واضح ہدایات‘ کے لیے پوچھا۔ کوئی ہدایت نہیں ملی۔
Published: undefined
اسی درمیان، پی ایل اے کمانڈر میجر جنرل لیو لِن کا ایک میسج آیا۔ اس نے حالات کو پرسکون کرنے کی ایک تجویز دی۔ دونوں فریق آگے بڑھنا بند کر دیں اور اگلے دن صبح 9.30 بجے، پاس پر مقامی کمانڈر اپنے اپنے 3 نمائندوں کے ساتھ ملیں گے۔ یہ ایک مناسب تجویز لگ رہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ کوئی راستہ نکل رہا ہے۔
Published: undefined
رات 10 بجے نروَنے نے یہی پیغام دینے کے لیے راج ناتھ اور ڈووال کو فون کیا۔ 10 منٹ بعد ناردرن کمانڈ نے پھر فون کیا۔ چینی ٹینک نہیں رکے تھے۔ وہ اب ٹاپ سے صرف 500 میٹر دور تھے۔ نروَنے کو یاد ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل جوشی نے کہا تھا کہ ’’چینی فوج کو روکنے کا واحد طریقہ ہماری اپنی میڈیم آرٹلری سے فائرنگ کرنا تھا، جو تیار تھی اور حکم کا انتظار کر رہی تھی۔‘‘ پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر آرٹلری کی لڑائی عام بات تھی، جہاں ڈویژنل اور کور کمانڈروں کو اوپر کسی سے پوچھے بغیر ہر دن سینکڑوں راؤنڈ فائر کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ لیکن یہ چین تھا۔ یہاں بات الگ تھی۔ پی ایل اے کے ساتھ آرٹلری کی لڑائی بہت نازک صورتحال میں بدل سکتی تھی۔
Published: undefined
’’میری صورتحال نازک تھی‘‘، نروانے لکھتے ہیں۔ ’کمانڈ (جو تمام ممکنہ طریقوں سے فائرنگ شروع کرنا چاہتی تھی‘ اور ’ایک سرکاری کمیٹی) جس نے ابھی تک واضح احکامات نہیں دیے تھے‘، ان کے بیچ نروَنے پھنسے ہوئے تھے۔ فوجی ہیڈکوارٹر کے آپریشن روم میں متبادل راستوں پر غور کیا جا رہا تھا اور انہیں مسترد کیا جا رہا تھا۔ پورا ناردرن فرنٹ ہائی الرٹ پر تھا۔
Published: undefined
ٹکراؤ کی ممکنہ جگہوں پر نظر رکھی جا رہی تھی، لیکن فیصلے کا پوائنٹ ’ریچن لا‘ تھا۔ نروَنے نے دفاعی وزیر کو ایک اور فون کیا، جنہوں نے واپس فون کرنے کا وعدہ کیا۔ وقت گزرتا گیا۔ ہر منٹ چینی ٹینک ٹاپ تک پہنچنے کے ایک منٹ قریب آ رہے تھے۔
راج ناتھ سنگھ نے رات 10.30 بجے واپس فون کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کی تھی، جن کی ہدایت ایک ہی جملے میں تھی: ’’جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔‘‘ یعنی ’جو آپ کو ٹھیک لگے، وہ کرو۔‘
Published: undefined
یہ ’مکمل طور پر ایک فوجی فیصلہ‘ ہونے والا تھا۔ مودی سے مشورہ لیا گیا تھا۔ انہیں بریف کیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے فیصلہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔
نروَنے یاد کرتے ہیں کہ ’’مجھے ایک گرم آلو پکڑا دیا گیا تھا اور اب پوری ذمہ داری مجھ پر تھی۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined