
آئی اے این ایس
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج سے قبل ریاست میں سیاسی ماحول انتہائی گرم ہوگیا ہے، جہاں ای وی ایم اسٹرونگ روم کے باہر ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات کے بعد انتظامیہ نے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق کولکاتا سمیت مختلف علاقوں میں قائم اسٹرونگ رومز کے باہر ترنمول کانگریس کے کارکنوں نے احتجاج اور دھرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ احتجاج وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے اس ویڈیو پیغام کے چند گھنٹوں بعد شروع ہوا جس میں انہوں نے ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے خدشات ظاہر کیے تھے اور پارٹی کارکنوں سے اسٹرونگ رومز کی نگرانی کرنے کی اپیل کی تھی۔
Published: undefined
ترنمول کانگریس کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ مرکزی فورسز نے جان بوجھ کر پارٹی کارکنوں کو اسٹرونگ روم کے باہر سے ہٹا دیا تاکہ اندر کسی ممکنہ سازش کو عملی شکل دی جا سکے۔ پارٹی کے مطابق یہ اقدام انتخابی شفافیت پر سوال کھڑے کرتا ہے اور الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے مزید واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔
کولکاتا کے خودی رام مرکز میں واقع ایک اہم اسٹرونگ روم کے باہر وزیر ششی پنجا اور پارٹی کے رہنما کنال گھوش نے دھرنا دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ اسٹرونگ روم کو مقررہ وقت سے پہلے کھولا جا سکتا ہے لیکن اس کی اطلاع تمام سیاسی جماعتوں کو نہیں دی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض مخصوص افراد کو اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ دیگر کو روکا جا رہا ہے۔
Published: undefined
ادھر الیکشن کمیشن نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹرونگ روم کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے اور تمام ای وی ایم کو قواعد کے مطابق سیل کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق ہر مرحلے پر امیدواروں اور ان کے نمائندوں کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے اور کسی بھی بے ضابطگی کی گنجائش نہیں ہے۔
حکام کے مطابق ریاست کے مختلف علاقوں میں قائم اسٹرونگ رومز پر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور سکیورٹی اہلکار چوبیس گھنٹے تعینات ہیں۔ اس کے باوجود سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے نتائج سے قبل حالات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ خود بھی سڑکوں پر رہ کر اسٹرونگ رومز کی نگرانی کریں گی اور چار مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد پارٹی کارکنوں میں مزید جوش پیدا ہوا ہے اور ریاست کے کئی حصوں میں احتجاج کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined