انل امبانی سے جڑے بینک فراڈ کیس میں سی بی آئی و ای ڈی کی رپورٹ ریکارڈ پر، سپریم کورٹ میں سماعت اگلے ہفتے مقرر
سپریم کورٹ نے سی بی آئی اور ای ڈی کی رپورٹ ریکارڈ پر لیتے ہوئے انل امبانی سے جڑے بینک فراڈ کیس کی سماعت اگلے ہفتے مقرر کی۔ عدالت نے کہا کہ فیصلہ سے قبل فریقین کو مکمل سنا جائے گا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو مرکزی تفتیشی بیورو اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے داخل کردہ تازہ اسٹیٹس رپورٹ کو ریکارڈ پر لے لیا اور انل امبانی سے جڑے ریلائنس کمیونیکیشنز کے مبینہ بینک فراڈ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے کے لیے مقرر کر دی۔
آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ، جس میں جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی شامل تھے، کے سامنے عرضی گزار کے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ جانچ میں پیش رفت کے باوجود معاملے کے مرکزی ملزم کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے عدالت میں کہا کہ سی بی آئی اور ای ڈی نے اپنی رپورٹیں داخل کر دی ہیں، لیکن مرکزی کردار کے خلاف کارروائی نہ ہونا اہم سوال کھڑا کرتا ہے۔
اس پر حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وہ کسی مخصوص فرد کی گرفتاری یا عدم گرفتاری پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق دونوں ایجنسیوں نے اپنی اپنی مہر بند رپورٹیں عدالت کے سامنے پیش کر دی ہیں اور تفتیش جاری ہے۔
عدالت نے رپورٹ کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاملے کی اگلی سماعت آئندہ ہفتے جمعہ کو ہوگی۔ بنچ نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ انل امبانی کے وکیل کو مکمل موقع دیا جائے گا تاکہ وہ اپنا موقف تفصیل سے پیش کر سکیں۔ ان کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے درخواست کی تھی کہ کسی بھی مزید کارروائی سے پہلے انہیں کم از کم تیس منٹ تک سنے جانے کا موقع دیا جائے۔
یہ مقدمہ ریلائنس کمیونیکیشنز اور اس سے وابستہ کمپنیوں کے ذریعے مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور بینک قرضوں میں دھوکہ دہی سے متعلق ہے۔ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ شفاف اور وقت بند جانچ پر زور دے چکی ہے اور سی بی آئی و ای ڈی کو مشترکہ طور پر تفتیش آگے بڑھانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
ادھر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق اس کیس میں منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت تین ہزار چونتیس کروڑ نوے لاکھ روپے کی نئی جائیدادیں عارضی طور پر ضبط کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریلائنس انل امبانی گروپ سے جڑے معاملات میں کل ضبط شدہ اثاثوں کی مالیت انیس ہزار تین سو چوالیس کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
ای ڈی کا کہنا ہے کہ ریلائنس کمیونیکیشنز اور اس کی کمپنیوں نے ملکی و غیر ملکی بینکوں سے بھاری قرض لیا تھا، جس میں سے چالیس ہزار ایک سو پچاسی کروڑ روپے اب بھی واجب الادا ہیں۔ اس کے علاوہ سی بی آئی اس معاملے میں کمپنی کے دو سینئر افسران، جوائنٹ پریزیڈنٹ ڈی وشواناتھ اور وائس پریزیڈنٹ انل کالیا، کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق فرضی کمپنیوں کے ذریعے مالی لین دین کو گھمایا گیا، جس کے نتیجے میں سترہ سرکاری بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ مقدمے کی آئندہ سماعت میں عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ جانچ کہاں تک پہنچی ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کیا پیش رفت ہوئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔